(3 مارچ 2026): ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے سے متعلق اسرائیلی اور امریکی دعوؤں پر عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے اہم بیان دے دیا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق آئی اے ای اے کے سربراہ رافیل گروسی نے تصدیق کی ہے کہ ایران میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے کوئی ثبوت نہیں ملے، انسپکٹرز کو تہران میں ایٹمی ہتھیار بنانے کے کسی منظم پروگرام کے شواہد نہیں ملے۔ایران اسرائیل امریکا جنگ سے متعلق تمام خبریںرافیل گروسی نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے دعوؤں کے باوجود ایٹم بم بنانے کا ڈھانچہ سامنے نہیں آیا تاہم ایران نے 60 فیصد تک یورینیم کی افزودگی کر لی جو سویلین ضروریات سے کہیں زیادہ ہے، یورینیم کی اتنی افزودگی وہی ملک کرتے ہیں جن کے پاس ایٹمی ہتھیار ہوں۔سربراہ آئی اے ای اے نے اس بات کی بھی تردید کی کہ ایران کے پاس ایٹمی بم موجود نہیں، اس کے پاس اتنا مواد جمع ہو چکا جو 10 سے زائد ایٹمی وارہیڈز بنانے کیلیے کافی ہے، یہی وہ نکتہ ہے جو عالمی برادری کیلیے گہری تشویش کا باعث ہے۔