دنیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے اے آئی ماڈل ’چیٹ جی پی ٹی‘ ان دنوں ایک نئے تنازعہ میں گھرا ہوا ہے۔ وجہ ہے امریکی محکمۂ دفاع کے ساتھ اس کی شراکت داری۔ اس معاہدہ کے بعد امریکہ میں کچھ صارفین چیٹ جی پی ٹی سے دوری بناتے نظر آ رہے ہیں۔ دوسری طرف اینتھروپک کے کلاؤڈے جیسے دیگر اے آئی ٹولز کی طرف رخ کر رہے ہیں۔ اتنا ہی نہیں، چیٹ جی پی ٹی کے موبائل ایپ کو اَن انسٹال کرنے والوں کی تعداد میں بھی تیز اضافہ دیکھا گیا ہے۔مارکیٹ انٹلیجنس فرم سنسر ٹاور کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں چیٹ جی پی ٹی ایپ کے اَن انسٹالیشن میں ایک ہی دن میں تقریباً 295 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ عام طور پر یہ اعداد و شمار روزانہ تقریباً 9 فیصد کے آس پاس رہتے ہیں۔ اس لیے یہ اضافہ اوپن اے آئی کی مارکیٹ گرفت کے لیے تشویش کی بات سمجھا جا رہا ہے۔دوسری طرف اینتھروپک کے اے آئی ماڈل کلاؤڈے کے موبائل ایپ کی ڈاؤن لوڈنگ میں تیزی آئی ہے۔ ’سملر ویب‘ کے مطابق پچھلے ایک ہفتہ میں امریکہ میں کلاؤڈے کے ڈاؤن لوڈ جنوری کے مقابلے میں تقریباً 20 گنا تک بڑھ گئے ہیں۔ تاہم، رپورٹ یہ بھی واضح کرتی ہے کہ اس پورے اضافہ کو صرف سیاسی تنازعہ سے جوڑ کر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔یہ بحث اس وقت تیز ہوئی جب اوپن اے آئی نے امریکی محکمۂ دفاع کے ساتھ اپنی شراکت داری کا اعلان کیا۔ جیسے ہی یہ خبر سامنے آئی، چیٹ جی پی ٹی موبائل ایپ کے ڈاؤن لوڈ میں تیزی سے کمی دیکھی گئی۔ کئی ناقدین کا ماننا ہے کہ عام استعمال کے لیے بنائے گئے اے آئی ٹولز کو فوجی نظام سے نہیں جوڑا جانا چاہیے، خاص طور پر جب اس ٹیکنالوجی کا استعمال نگرانی، خفیہ تجزیہ یا آپریشنل منصوبہ بندی جیسے حساس کاموں میں ہو سکتا ہو۔ اسی وجہ سے کچھ لوگوں نے چیٹ جی پی ٹی کے بائیکاٹ کی اپیل تک کر دی اور صارفین سے کہا کہ وہ دوسرے پلیٹ فارمز کی طرف رخ کریں۔ ان متبادل آپشنز میں سب سے زیادہ ذکر اینتھروپک کے کلاؤڈے اے آئی کا ہو رہا ہے۔ یہ خود کو جنریٹیو اے آئی کی دنیا میں ایک سیفٹی فوکسڈ اور قابل اعتماد متبادل کے طور پر پیش کر رہا ہے۔اتنا ہی نہیں، صارفین کے ریویوز میں بھی ناراضگی صاف جھلکنے لگی ہے۔ سنسر ٹاور کے مطابق ہفتہ کو چیٹ جی پی ٹی کی ایک اسٹار ریٹنگز میں 775 فیصد کا اضافہ ہوا اور اتوار کو یہ تعداد پھر تقریباً دوگنی ہو گئی۔ دوسری طرف، اسی دوران پانچ اسٹار ریویوز میں تقریباً 50 فیصد کی کمی درج کی گئی۔