تہران : ایران میں اسرائیلی حملے میں جاں بحق 160 کمسن طالبات کی قبروں کی دل دہلا دینے والی تصویر سامنے آگئی۔تفصیلات کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی تصویر شیئر کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل پر معصوم بچوں کے قتلِ عام کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے مناب میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والی 160 کمسن طالبات کی قبروں کی تصویر ٹویٹ کی۔عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری میں معصوم بچیوں کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حملہ جان بوجھ کر ایک پرائمری اسکول پر کیا گیا جہاں صرف معصوم طالبات موجود تھیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے پر سخت طنز کیا جس میں انہوں نے ایرانی عوام کو "ریسکیو” کرنے یا نجات دلانے کی بات کی تھی۔وزیر خارجہ نے لکھا کہ "ٹرمپ نے ایرانی عوام سے جس ‘ریسکیو’ کا وعدہ کیا تھا، اس کی اصل حقیقت یہ قبریں ہیں۔”انسانیت کے خلاف جرم: انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے لے کر مناب تک معصوم شہریوں کا قتلِ عام امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔These are graves being dug for more than 160 innocent young girls who were killed in the US-Israeli bombing of a primary school. Their bodies were torn to shreds.This is how "rescue” promised by Mr. Trump looks in reality.From Gaza to Minab, innocents murdered in cold blood. pic.twitter.com/cRdJ3BELOn— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 2, 2026