دبئی : متحدہ عرب امارات اور اردن نے اپنے ممالک میں تعینات ایرانی سفارتی نمائندوں کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا اور حملوں کوخودمختاری اورسلامتی کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔تفصیلات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد عرب ممالک نے سخت سفارتی ردعمل کا آغاز کر دیا، متحدہ عرب امارات اور اردن نے اپنے ممالک میں تعینات ایرانی سفارتی نمائندوں کو طلب کر کے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔اماراتی وزارتِ خارجہ نے ایرانی سفیر رضا عامری کو دفتر خارجہ طلب کیا اور ان کے حوالے ایک سخت احتجاجی مراسلہ کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے اماراتی سرزمین، ایئر پورٹس، بندرگاہوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنا کر عالمی قوانین اور یو این چارٹر کی کھلی خلاف ورزی کی ہے۔وزیر مملکت خلیفہ شاہین المرر نے ایرانی توجیہات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ امارات اپنی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور جواب دینے کا قانونی حق محفوظ رکھتا ہے۔دوسری جانب اردن نے بھی ایرانی میزائل حملوں پر ایرانی ناظم الامور کو طلب کر کے سخت مذمت کی۔عمانی دفتر خارجہ کے مطابق اردن نے تصدیق کی ہے کہ ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام کے ذریعے کامیابی سے تباہ کر دیے گئے۔اردن نے خلیجی ریاستوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور اپنے شہریوں کے تحفظ کے عزم کو دہرایا ہے۔