آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو آگ لگا دیں گے، ایران

Wait 5 sec.

تہران (03 مارچ 2026): ایران کے پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جو بھی بحری جہاز گزرے گا اسے آگ لگا دیں گے۔پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کے لیے انتباہ جاری کر دیا ہے، ایرانی کمانڈر انچیف کے مشیر ابراہیم جباری نے پیر کے روز سرکاری ٹی وی پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ آبنائے ہرمز بند ہے۔انھوں نے خبردار کیا کہ اس علاقے میں نہ آئیں ورنہ سخت ردعمل کا سامنا کریں گے، ابراہیم جباری نے یہ بھی کہا کہ امریکی اس خطے کے تیل کے پیاسے ہیں، ایران ان کی پائپ لائنوں کو نشانہ بنائے گا اور اس علاقے سے تیل برآمد نہیں ہونے دے گا۔روئٹرز کے مطابق یہ ایران کی اب تک کی سب سے واضح وارننگ ہے، اس اقدام سے عالمی تیل کی رسد کا تقریباً پانچواں حصہ متاثر ہو سکتا ہے اور خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔ایران اسرائیل جنگ کی تمام خبریں یہاں پڑھیںپاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر اِن چیف کے سینئر مشیر نے کہا ’’آبنائے ہرمز بند ہے۔ اگر کوئی گزرنے کی کوشش کرے گا تو پاسدارانِ انقلاب اور باقاعدہ بحریہ کے ہیرو اُن جہازوں کو آگ لگا دیں گے۔‘‘آبنائے ہرمز دنیا کا سب سے اہم تیل برآمدی راستہ ہے، جو خلیج کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق اور متحدہ عرب امارات کو خلیجِ عمان اور بحیرۂ عرب سے ملاتا ہے۔یہ بندش 28 فروری کو ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد عمل میں آئی، جن کا مقصد ایرانی قیادت کا تختہ الٹنا بتایا گیا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو حکمران مذہبی قیادت کو ہٹانے میں مدد کی پیشکش بھی کی تھی۔ جواباً ایران نے خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک، جیسے قطر، کویت اور بحرین، پر کئی میزائل حملے کیے۔ تہران نے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان پر بھی میزائل داغے۔اس اقدام کے ساتھ تہران نے برسوں سے دی جانے والی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا کہ اسلامی جمہوریہ پر کسی بھی حملے کے جواب میں وہ اس تنگ آبی گزرگاہ کو بند کر دے گا۔ دنیا کی یومیہ تیل کھپت کا تقریباً 20 فیصد آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، جو اپنے سب سے تنگ مقام پر تقریباً 33 کلومیٹر (21 میل) چوڑی ہے۔