مدھیہ پردیش کی سڑکوں پر ٹول کا ’کھیل‘، نوٹیفکیشن سے پہلے ہی کروڑوں کی وصولی، وزیر نے دی صفائی

Wait 5 sec.

مدھیہ پردیش میں ٹول وصولی کے معاملے پر بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ الزام ہے کہ مدھیہ پردیش روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم پی آر ڈی سی) نے گورنر کے نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہی کئی سڑکوں پر ٹول وصول کرنا شروع کر دیا تھا اور یہ سلسلہ 6 ماہ سے لے کرایک سال تک جاری رہا۔ یعنی ٹول وصولی جس تاریخ سے نافذ ہوئی تھی، اس سے پہلے ہی عوام کی جیب سے پیسہ نکالا جا رہا تھا۔ یہ انکشاف پی ڈبلیو ڈی کی جانب سے اسمبلی میں پیش کردہ ایک جواب سے ہوا ہے۔مدھیہ پردیش میں ’نالی کے پانی‘ کو ملی کلین چٹ، ویڈیو شیئر کر کانگریس نے بی جے پی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیاکانگریس کے ممبراسمبلی پرتاپ گریوال نے ایوان میں پوچھا تھا کہ ریاست کی کن سڑکوں کے لیے ٹول وصولی کے نوٹیفکیشن کب جاری ہوئے اور ان سڑکوں پر کب سے ٹول وصولی شروع ہوئی؟ ایوان میں جواب پیش کیا گیا تو چونکا دینے والی معلومات سامنے آئیں۔ کانگریس لیڈر پرتاپ گریوال نے الزام لگایا کہ تعمیرات عامہ(پی ڈبلیو ڈی) کے وزیر راکیش سنگھ کی طرف سے شیئر کی گئی معلومات کے مطابق کئی سڑکوں کے پروجیکٹوں کے لیے نوٹیفکیشن اور ٹول وصولی کی تاریخوں میں واضح تضاد ہے جو نہ صرف قواعد کے خلاف ہے بلکہ قانون کی براہ راست خلاف ورزی بھی ہے۔کانگریس رکن گریوال نے ایوان میں پیش کئے گئے اعداد و شمار کی بنیاد پر الزام لگایا کہ نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ہی کئی سڑکوں پر ٹول وصولی شروع ہو گئی تھی۔ ان سڑکوں میں بھوپال بائی پاس، اندور۔اجین مارگ، ساگر۔داموہ مار، بھنڈ۔ گوپالپورہ مارگ، گُنا۔ایسا گڑھ مارگ، مہو۔گھاٹا بلور مارگ، بینا۔ کھم لاسا مارگ وغیرہ شامل ہیں۔ پرتاپ گریوال نے الزام لگایا کہ ایم پی آر ڈی سی نے نوٹیفکیشن جاری ہونے سے پہلے ریاست کی 43 سڑکوں پر مبینہ طور پر غیر قانونی ٹول وصولی کے ذریعے دسمبر 2025 تک 603.66 کروڑ روپے کا خالص منافع کمایا ہے، جس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔اپوزیشن کانگریس کے الزامات سے ریاست کی سیاست میں نیا تنازعہ شروع ہوگیا ہے۔ اس دوران پی ڈبلیو ڈی کے وزیر راکیش سنگھ نے کہا کہ ایوان میں فراہم کردہ معلومات میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ٹول کی وصولی سرکاری خزانے میں جمع ہوئی ہے اس لئے اس میں بدعنوانی کاکوئی معاملہ نہیں بنتا ہے۔ جہاں تک نوٹیفیکیشن جاری ہونے کا تعلق ہے تو وہ اکثر بیک ڈیٹس میں بھی جاری ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کہنا غلط ہے کہ محکمہ نے غیر قانونی طور پر ٹول وصول کیا۔