ایران، اسکول حملے کی 180 شہید طالبات آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک

Wait 5 sec.

تہران: ایران میں اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والی 180 شہید طالبات کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، معصوم پھولوں کو آہوں اور سسکیوں میں سپردخاک کردیا گیا۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق 180 کمسن شہید طالبات کی نماز جنازہ اور تدفین میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی، جنازے کے دوران سوگواروں نے امریکا مردہ باد اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے۔اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ایک دل دہلا دینے والی تصویر شیئر کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کو معصوم بچوں کے قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔These are graves being dug for more than 160 innocent young girls who were killed in the US-Israeli bombing of a primary school. Their bodies were torn to shreds.This is how "rescue” promised by Mr. Trump looks in reality.From Gaza to Minab, innocents murdered in cold blood. pic.twitter.com/cRdJ3BELOn— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) March 2, 2026ایرانی وزیر خارجہ نے مناب میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والی اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والی 180 کمسن طالبات کی قبروں کی تصویر ٹویٹ کی تھی۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ امریکی اور اسرائیلی بمباری میں معصوم بچیوں کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے، انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حملہ جان بوجھ کر ایک پرائمری اسکول پر کیا گیا جہاں صرف معصوم طالبات موجود تھیں۔ایران کے وزیر خارجہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس وعدے پر سخت طنز کیا جس میں انہوں نے ایرانی عوام کو ”ریسکیو“ کرنے یا نجات دلانے کی بات کی تھی۔کویت کی فضائی حدود میں امریکی طیارے کیسے پہنچے؟ عباس عراقچیوزیر خارجہ نے لکھا کہ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے جس’ریسکیو‘ کا وعدہ کیا تھا، اس کی اصل حقیقت یہ قبریں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ سے لے کر مناب تک معصوم شہریوں کا قتلِ عام امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔