تہران : پاسداران انقلاب نے امریکہ اور اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ ایران پر مزید حملوں کی صورت میں مشرق وسطیٰ کے معاشی مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔ایران کی پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف کے مشیر میجر جنرل ابراہیم جباری نے کہا ہے کہ مزید حملے ہوئے تو خطے کے تمام معاشی مراکز ملبے کا ڈھیر بن جائیں گے۔غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق 3 مارچ 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے ایک اعلیٰ فوجی عہدیدار نے امریکہ اور اسرائیل کی جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایران کے مرکزی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو پورے خطے کے اقتصادی مراکز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔میجر جنرل ابراہیم جباری نے دعویٰ کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کو بند کرچکا ہے اور تیل کی قیمتیں جو پہلے ہی 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں بہت جلد 200 ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔واضح رہے کہ امریکا اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تیل کی عالمی منڈی پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے ہیں۔برینٹ خام تیل کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل سے اوپر جاچکی ہے جو جولائی 2024 کے بعد پہلی بار ہے۔ توانائی کی عالمی رسد میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات کے باعث مزید اضافے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔آبنائے ہرمز عالمی تیل کی تجارت کا پانچواں بڑا راستہ ہےیہاں سے روزانہ تقریباً دو کروڑ بیرل تیل اور ایل این جی گزرتی ہے، آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔