بڑھتی ہوئی جنگ کے باوجود تمام سرکاری ادارے فعال ہیں، ایرانی صدر

Wait 5 sec.

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران رکا نہیں ہے اور حکومتی نظام مفلوج ہونے کا تاثر غلط ہے۔اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ بڑھتی ہوئی جنگ کے باوجود تمام سرکاری ادارے فعال ہیں اور ملک بھرمیں ریاستی امور معمول کے مطابق چل رہے ہیں، تمام گورنرز کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ صورتحال غیرمعمولی ضرور ہے لیکن ملک کا پہیہ جام نہیں ہوا، ملک بھر میں تمام سرگرمیاں اور ضروری خدمات کا سلسلہ جاری ہے حکومت حالات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے۔ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’’ان کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت ختم ہو چکی ہے "وہ بات کرنا چاہتے ہیں میں نے کہا اب ‘بہت دیر ہو گئی!’”ایران اسرائیل جنگ کی تمام خبریں یہاں پڑھیںاس سے قبل ریاض میں امریکی سفارتخانے پر حملے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل دینے کا عندیہ دے دیا۔ایران نے ایک بار پھر مذاکرات سے انکار کر دیا ہے، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسکول میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا حکومت کی توجہ ملک کے دفاع پر ہے۔اسماعیل بقائی نے کہا وہ لوگ رسوا ہوں گے جھنوں نے مذاکرات کی آڑ میں حملہ کیا، ایران شیطان سے لڑ رہا ہے، صہیونی حکومت کبھی بھی شر انگیزی سے باز نہیں آتی۔انھوں نے کہا عرب دوستوں سے کہتے ہیں احتیاط کریں، کیوں کہ صہیونی رجیم جنگ کا دائرہ وسیع کرنے اور دیگر ممالک تک پھیلانے میں نہیں ہچکچائے گی، یورپ بھی ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے اجتناب کرے، ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کو جنگی اقدام تصور کیا جائے گا۔ادھر سعودی عرب نے ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ایرانی حملے کی مذمت کی ہے، سعودی وزارت خارجہ نے بیان میں کہا کہ مملکت اپنے مفادات کے دفاع کے لیے تمام اقدامات اٹھانے کا حق رکھتی ہے، یہ حملے بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں۔