ایران کی جانب سے امریکی فوج پر پہلے حملہ کرنیکی انٹیلی جنس نہیں تھی: پینٹاگون کا اعتراف

Wait 5 sec.

واشنگٹن(2 مارچ 2026): امریکی دفاع ادارے پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی افواج پر  پہلے حملہ کیے جانے سے متعلق کوئی انٹیلی جنس رپورٹ نہیں تھی۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز کانگریس کے عملے کو دی گئی ایک بند کمرہ بریفنگ میں ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے اعتراف کیا ہے کہ ایسی کوئی انٹیلی جنس موجود نہیں تھی جس سے یہ ظاہر ہو کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا اور اس معاملے سے باخبر دو افراد نے یہ معلومات فراہم کی ہیں۔امریکا اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر دہائیوں کے سب سے بڑے حملے شروع کیے، جس میں حکام کے مطابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو  شہید، ایرانی جنگی جہازوں کو غرق اور اب تک ایک ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔اسرائیل ایران جنگ سے متعلق تمام خبریں یہاں پڑھیںتاہم، اتوار کو کانگریس میں کیے گئے تبصرے انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کی جانب سے جنگ کے حق میں دیے گئے اہم ترین دلائل کی نفی کرتے نظر آتے ہیں۔امریکی حکام نے ایک دن پہلے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کا فیصلہ جزوی طور پر ان اشاروں کی بنیاد پر کیا کہ ایرانی مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر "شاید پیشگی” حملہ کر سکتے ہیں۔ ایک اہلکار کے مطابق ٹرمپ اس حق میں نہیں تھے کہ وہ "خاموش بیٹھیں اور خطے میں موجود امریکی افواج کو حملوں کا نشانہ بننے دیں۔”وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیلن جانسن نے اس سے قبل بتایا کہ پینٹاگون حکام نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان کی متعدد قومی سلامتی کمیٹیوں کے ڈیموکریٹک اور ریپبلکن عملے کو ایران میں جاری امریکی حملوں کے بارے میں 90 منٹ سے زائد وقت تک بریفنگ دی۔ذرائع نے بتایا کہ بریفنگ میں انتظامیہ کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں اس کی پراکسی فورسز امریکی مفادات کے لیے ایک فوری خطرہ تھے، لیکن تہران کی جانب سے پہلے حملہ کرنے کے حوالے سے کوئی انٹیلی جنس موجود نہیں تھی۔ڈیموکریٹس کی ‘اپنی مرضی کی جنگ’ پر تنقیدڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر "اپنی مرضی کی جنگ” (war of choice) چھیڑنے کا الزام لگایا ہے اور ان کے ان دلائل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جن کی بنیاد پر انہوں نے امن مذاکرات کو ترک کیا، جبکہ ثالث ملک عمان کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں اب بھی بہتری کی امید باقی تھی۔ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایران جلد ہی بیلسٹک میزائل کے ذریعے امریکہ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے والا ہے۔ تاہم، امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے باخبر ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ان کے میزائل سے متعلق دعوے کی انٹیلی جنس رپورٹس میں تصدیق نہیں ہوئی اور یہ مبالغہ آرائی محسوس ہوتی ہے۔