ایران کا امریکا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ سے دستبرداری پر غور

Wait 5 sec.

تہران (2 مارچ 2026): امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے رواں برس امریکا میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ سے دستبرداری پر غور شروع کر دیا ہے۔ایران سے مذاکرات کے دوران امریکا نے اسرائیل کے ساتھ ہفتہ کی علی الصباح ایران پر حملہ کر دیا جس سے دونوں جانب اب تک بڑا جانی اور مالی نقصان سامنے آیا ہے اور اس جنگ کے اثرات مشرق وسطیٰ میں شدید کشیدگی کی صورت میں برآمد ہو رہے ہیں۔جنگ کے سائے میں ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج کا بیان سامنے آیا ہے، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ ایران رواں برس امریکا، کینیڈا اور ماسکو میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کا سوچ رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے ایک انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے تہران پر کیے گئے حملوں کے بعد ایران کے لیے رواں برس امریکا میں کھیلے جانے والے اپنے ورلڈ کپ میچز میں شرکت کرنے کا امکان نہیں ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ کھیلوں سے وابستہ حکام نے ہی کرنا ہے۔ایران نے 2026 کے فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور اس کو امریکی سر زمین پر اپنے تین میچز کھیلنے ہیں، جو 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف، 21 جون کو بیلجیئم کے خلاف اور 26 جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف شیڈول ہےایران نے سنہ 2026ء ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا ہے اور اسے امریکی سرزمین پر اپنے تین میچ کھیلنے ہیں جن میں 15 جون کو لاس اینجلس میں نیوزی لینڈ کے خلاف، 21 جون کو اسی شہر میں بیلجیم کے خلاف اور آخر میں 26 جون کو سیئٹل میں مصر کے خلاف میچ شامل ہے۔واضح رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکی جنگ میں تینوں ممالک کا جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔ ایرانی سپریم کمانڈر آیت اللہ خامنہ ای، ان کا خاندان، آرمی چیف سمیت کئی دیگر حکام کے علاوہ 200 سے زائد ایرانی شہری شہید اور سینکڑوں زخمی ہیں۔دوسری جانب ایرانی حملوں میں امریکی اور اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے جب کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حملوں میں اب تک 560 امریکی فوجی مارے جا چکے ہیں۔دوسری جانب ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں اور تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنائے جانے کے بعد مشرق وسطیٰ میں بھی کشیدگی بہت بڑھ چکی ہے۔