دہلی میں ہوا کا معیار ایک بار پھر خراب ہوتا جا رہا ہے۔ ہوا میں زہریلے عناصر کی موجودگی پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور خزانچی اجئے ماکن نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’دہلی کی ہوا اس وقت پبلک ہیلتھ ایمرجنسی والی حالت میں ہے۔ مختلف مقامات پر پی ایم 2.5 آلودگی نے انتہا سے بھی زیادہ خطرناک حدود کو پار کر لیا ہے، جو شہریوں کی سانس اور دل کی صحت کے لیے بہت سنگین خطرہ ہے۔بی جے پی حکومت کے ذریعہ یوتھ کانگریس کارکنان کی گرفتاری پوری طرح غیر آئینی اور جمہوریت کا قتل: اجئے ماکناجئے ماکن نے 3 مارچ کے اعداد و شمار بھی پیش کیے ہیں جو کہ 48 گھنٹے کے اعلیٰ ترین پی ایم 2.5 بتائے گئے ہیں۔ جن مقامات کے پی ایم 2.5 کے نمبرات انھوں نے پیش کیے ہیں، وہ اس طرح ہیں:اگنو: µg/m³۔ 251 (2021 کے مقابلے میں 101 فیصد زیادہ)پوسا: µg/m³۔ 200 (252 فیصد زیادہ)جہانگیر پوری: µg/m³۔ 200آنند وِہار: µg/m³۔ 197آر کے پورم: µg/m³۔ 190اس سوشل میڈیا پوسٹ میں اجئے ماکن نے آگے لکھا ہے کہ ’’تمام 22 اسٹیشنز نے ڈبلیو ایچ او (15) اور این اے اے کیو ایس (60) دونوں حدود کو عبور کر لیا ہے، اور 12 اسٹیشن 2021 کے ریکارڈ سے بھی بدتر نتائج دکھا رہے ہیں۔‘‘ وہ آگے لکھتے ہیں کہ ’’طویل عرصہ تک پی ایم 2.5 ماحولیاتی معیار سے زیادہ سطح پر رہنے سے سانس، دل اور دیگر امراض میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایک اسٹڈی کے مطابق 2009 سے 2019 تک تقریباً 3.8 ملین (38 لاکھ) افراد کی موتیں پی ایم 2.5 آلودگی کے قومی معیارات سے تجاوز کرنے سے منسوب کی گئی ہیں، اور ہر µg/m³۔ 10 اضافے کے ساتھ موت کی شرح میں تقریباً 8.6 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔‘‘Delhi's air is a public health emergency.48-hour peak PM2.5 (March 3): IGNOU: 251 µg/m³ (+101% vs 2021) Pusa: 200 µg/m³ (+252%) Jahangirpuri: 200 µg/m³ Anand Vihar: 197 µg/m³ RK Puram: 190 µg/m³ALL 22 stations exceed WHO (15) AND NAAQS (60) limits. 12 are WORSE… pic.twitter.com/1SbF2geUoy— Ajay Maken (@ajaymaken) March 3, 2026کانگریس لیڈر نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں سوال اٹھایا ہے کہ این سی اے پی (نیشنل کلین ایئر پروگرام) پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے، لیکن اس کے نتائج کہاں ہیں؟ متعدد ماہرین کہتے ہیں کہ این سی اے پی کے اہداف (پی ایم 2.5 کو 2026 تک تقریباً 20 سے 30 فیصد تک کم کرنا) اب بھی پوری طرح حاصل نہیں ہوئے، اور کئی بڑے شہروں میں ہوا کی کیفیت خطرناک حدوں سے کم نہیں ہوئیں۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق دہلی اور ارد گرد کے علاقوں میں ہوا کی خرابی کئی عوامل کی وجہ سے ہے، مثلاً گاڑیوں اور ٹریفک کے اخراج، تعمیراتی دھول، صنعتی آلودگی، فصل کی باقیات جلانا، وغیرہ۔ یہ سبھی ذرائع گرمیاں ختم ہونے اور ہوا میں ذرات کے جمع ہونے کے ساتھ مل کر سنگین آلودگی کا سبب بنتے ہیں۔اس معاملے میں ماہرین بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ ہوا کی آلودگی نہ صرف سانس کے امراض بلکہ دل، دماغ اور کینسر جیسے طویل مدتی صحت کے مسائل کو بھی بڑھاتی ہے۔ علاوہ ازیں عالمی ادارہ صحت کے معیار سے کہیں زیادہ آلودگی رہنے کی وجہ سے زندگی کی اوسط مدت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔بہرحال، جو اعداد و شمار اجئے ماکن نے پیش کیے ہیں، اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہلی کی ہوا نہ صرف غیر محفوظ بلکہ صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ این سی اے پی جیسے پروگراموں کے باوجود ہوا میں بہتری دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ اس معاملہ میں اجئے ماکن نے حکومت سے واضح، شفاف اور مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ دہلی کے رہائشیوں کو سانس لینے کے قابل ہوا مل سکے۔