میڈرڈ : اسپین حکومت نے تقریباً پانچ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی رہائشی حیثیت دینے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے اس فیصلے کو ملک کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ان تقریباً پانچ لاکھ افراد کی حقیقت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے، جو پہلے ہی اسپین کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں اور یہ افراد باضابطہ طور پر ملکی ورک فورس کا حصہ بن سکیں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ منصوبے کے مطابق غیرقانونی تارکین وطن کو ایک سال کے لیے قابلِ تجدید رہائشی اجازت نامہ دیا جائے گا۔درخواست گزاروں کے لیے شرط ہے کہ وہ ثابت کریں کہ وہ کم از کم پانچ ماہ سے اسپین میں مقیم ہیں اور ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔ درخواستیں 16 اپریل سے جون کے اختتام تک جمع کرائی جا سکیں گی۔وزیراعظم سانچیز نے کہا کہ ان تارکین وطن نے ایک خوشحال اسپین کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق اسپین کی معیشت اور عوامی خدمات کو برقرار رکھنے کے لیے تارکین وطن ناگزیر ہیں۔اسپین کے تحقیقی ادارے فنکاس کے اندازے کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 8 لاکھ 40 ہزار غیر دستاویزی تارکین وطن موجود ہیں، جن میں اکثریت لاطینی امریکی باشندوں کی ہے۔دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعت پیپلزپارٹی نے اس فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر قانونی ہجرت کی حوصلہ افزائی قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ وہ اس قانون کو روکنے کی کوشش کرے گی۔پارٹی کا دعویٰ ہے کہ حکومتی اندازے غلط ہیں اور اس اسکیم کے تحت تقریباً 10 لاکھ افراد درخواست دے سکتے ہیں، تاہم کیتھولک چرچ نے حکومتی اقدام کی حمایت کی ہے۔واضح رہے کہ اسپین میں اس سے قبل بھی مختلف حکومتیں تارکین وطن کے لیے عام معافی کی اسکیمیں متعارف کراچکی ہیں۔ آخری مرتبہ 2005 میں سوشلسٹ حکومت کے دور میں 5 لاکھ 77 ہزار افراد کو قانونی رہائش دی گئی تھی۔