آبنائے ہرمز کھلتے ہی ہندوستان کو ملی 3 خوشخبری

Wait 5 sec.

گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے پوری دنیا کی سانسیں اٹکی ہوئی تھیں۔ 28 فروری سے ایران اور اسرائیل-امریکہ کے درمیان شروع ہوئی جنگ نے گلوبل سپلائی چین کی کمر توڑ دی تھی۔ اس معاشی بحران کی سب سے بڑی وجہ ’آبنائے ہرمز‘ کا بند ہونا تھی۔ یہ سمندر کا وہ اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس گزرتا ہے۔ لیکن اب حالات اچانک بدل گئے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہرمز کو تجارت کے لیے مکمل طور پر کھولنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس ایک قدم نے گلوبل مارکیٹ کی تصویر بدل دی ہے اور ہندوستان کے لیے ایک ساتھ 3 محاذوں پر خوشخبری ملی ہے۔ آئیے ذیل میں دیکھتے ہیں یہ 3 خوشخبریاں کیا ہیں...1. خام تیل کی قیمتوں میں زبردست گراوٹہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 85 فیصد خام تیل بیرون ملک سے خریدتا ہے۔ سعودی عرب، یو اے ای اور کویت سے آنے والا تیل اسی ہرمز کے راستے ہندوستان پہنچتا ہے۔ جیسے ہی اس سمندری راستے کے مکمل طور پر کھلنے کی خبر آئی، خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ درج کی گئی۔ بین الاقوامی بازار میں جمعہ کی شب خام تیل 12 فیصد گر کر 83 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔ برینٹ کروڈ بھی 11 فیصد پھسل کر تقریباً 87 ڈالر کے قریب ٹریڈ کر رہا ہے۔ قیمتیں اب فروری کی نچلی سطح کے آس پاس پہنچ گئی ہیں۔ خام تیل سستا ہونے سے ہندوستان کا درآمدی بل بہت کم ہوگا۔ اس سے سرکاری خزانے پر دباؤ گھٹے گا اور ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) بہتر ہوگا، جو معیشت کے لیے نہایت مثبت ہے۔2. شیئر بازار بنے گا راکٹہرمز کا راستہ کھلتے ہی سپلائی چین کی تمام خدشات دور ہو گئی ہیں اور اس کا براہ راست اثر شیئر بازار پر پڑا ہے۔ ہندوستانی شیئر بازار جمعہ کو بند ہونے کے بعد یہ اہم خبر آئی، لیکن ’گفٹ نفٹی‘ میں اس کا اثر فوراً نظر آیا۔ گفٹ نفٹی 400 پوائنٹس سے زیادہ (تقریباً 2 فیصد) کی چھلانگ لگا چکا ہے۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ پیر کو جب ہندوستانی بازار کھلیں گے تو سرمایہ کاروں کو شاندار شروعات دیکھنے کو ملے گی۔ خاص طور پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں ایچ پی سی ایل، بی پی سی ایل آئی او سی کے ساتھ ساتھ پینٹ، ٹائر اور ایوی ایشن سیکٹر کے شیئرز میں زبردست خریداری کی امید ہے۔ جیو پولیٹیکل تناؤ کم ہونے سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا رخ بھی ہندوستان کی طرف مثبت ہوگا۔3. سونے-چاندی میں زبردست تیزیعام طور پر جب کشیدگی کم ہوتی ہے تو سونے کی قیمتیں گرتی ہیں۔ لیکن مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کو اتنا خوفزدہ کر دیا تھا کہ وہ قیمتی دھاتوں میں بھی سرمایہ کاری سے بچ رہے تھے۔ اب ہرمز کے کھلنے اور جنگ کا خطرہ ٹلنے سے اچانک سرمایہ کاروں کا اعتماد واپس آ گیا ہے۔ اس بدلے ہوئے ماحول میں گلوبل مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ہندوستانی بازار میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ایم سی ایکس پر چاندی 5 فیصد کی تیزی کے ساتھ 2.61 لاکھ روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی ہے۔ وہیں، سونے میں بھی 1.50 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا ہے، جس سے 10 گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 1.55 لاکھ روپے ہو گئی ہے۔