واشنگٹن (16 اپریل 2026): امریکا کی ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا عالمی منصوبہ پیش کر دیا ہے، جس کے لیے اقوام متحدہ کو استعمال کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ دنیا بھر کے ممالک پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ایک ایسے مشترکہ اعلامیے پر دستخط کریں جس میں ’’امداد کی بجائے تجارت‘‘ کو ترجیح دینے کا کہا گیا ہے۔ اعلامیے میں امریکا کی اس تاریخی حیثیت کو مسترد کر دیا گیا ہے جس کے تحت وہ ترقی پذیر دنیا کو انسانی ہمدردی کی امداد اور دیگر معاونت فراہم کرنے والا ایک بڑا ملک رہا ہے۔بدھ کے روز تمام امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے امریکی سفارت کاروں کو ہدایت دی کہ وہ پیر تک دیگر ممالک کو ایک باضابطہ سفارتی درخواست (ڈیمارش) پیش کریں، جس میں اپیل کی جائے کہ اپریل کے آخر میں اقوام متحدہ میں اس امریکی اقدام کے پیش ہونے سے پہلے وہ اس کی حمایت کریں۔روبیو نے ہدایت کی کہ اقوام متحدہ کے نظام کو امریکا کے ’’امریکا فرسٹ‘‘ نظریے کے فروغ کے لیے استعمال کیا جائے، اور اسے امریکی کمپنیوں کے لیے کاروباری مواقع پیدا کرنے کے ایک موقع کے طور پر لیا جائے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکملیہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ عالمی امدادی نظام کو بڑی حد تک تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس میں امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کو ختم کرنا اور اقوام متحدہ کے تحت کثیرالجہتی کوششوں کے لیے فنڈنگ کم کرنا شامل ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس طرح کے اقدامات نے فضول خرچی، بدعنوانی اور انحصار کو فروغ دیا ہے۔دیگر بڑے امدادی عطیہ دہندگان، جن میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں، نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کی پیروی کرتے ہوئے اپنی کوششوں میں کمی کی ہے، جس کے نتیجے میں بعض ماہرین کے مطابق ’’عالمی امداد میں بڑی کساد بازاری‘‘ پیدا ہو گئی ہے۔ مطالعات کے مطابق اس طرح فنڈنگ میں بڑے پیمانے پر کمی 2030 تک 94 لاکھ اموات کا سبب بن سکتی ہے۔اگرچہ عالمی امدادی نظام پر طویل عرصے سے تنقید ہوتی رہی ہے اور یہ کہا جاتا رہا ہے کہ اس سے انحصار پیدا ہوتا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ طریقہ کار منافع کمانے والی کمپنیوں کو غریب ممالک کے استحصال کا موقع دے سکتا ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا کہ اقوام متحدہ میں اس امریکا فرسٹ پالیسی کے فروغ کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں، اور روبیو کی ہدایت پر امریکی سفارتخانوں کو فوری طور پر عالمی حمایت حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ امریکی مؤقف ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو روایتی انسانی امداد کم کر کے ان کے ساتھ تجارتی تعلقات استوار کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔اخبار کو ایک محکمہ خارجہ کے اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ’’یہ دراصل امداد کو مکمل طور پر ختم کرنے اور کمپنیوں کو نئی منڈیوں میں منافع کمانے کا موقع دینے کے ہمارے مؤقف کو مضبوط بنا رہا ہے۔‘‘ کہا جا رہا ہے کہ ممالک کو اس اعلامیے پر دستخط کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ دیگر ممالک ٹرمپ انتظامیہ کی ان کوششوں پر شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔