واشنگٹن (15 اپریل 2026): امریکی محکمہ خارجہ کی میزبانی میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک اہم اور تاریخی اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی۔ لبنان اور اسرائیل کے سفیروں نے مذاکرات میں حصہ لیا۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ 1993 کے بعد لبنان اور اسرائیل کی حکومتوں کے درمیان پہلی بڑی براہِ راست اعلیٰ سطحی ملاقات تھی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری اور براہِ راست مذاکرات کے آغاز کے لیے اہم اور تعمیری گفتگو کی گئی۔اجلاس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے میں اس پیش رفت کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ یہ مذاکرات ایک جامع امن معاہدے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں، جو امریکا کی ثالثی میں طے پانے کی توقع ہے۔ اعلامیے میں لبنان کی جانب سے ریاستی عمل داری کے مکمل قیام اور ایران کے اثر و رسوخ کے خاتمے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔امریکا نے اعلامیے میں حزب اللہ کے حملوں کے خلاف اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا، جب کہ 2024 میں اعلان کردہ جنگ بندی پر مکمل عمل درآمد کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا۔ایران امریکا مذاکرات: برطانوی پارلیمان میں بھی پاکستان کی ثالثی کی تعریفاپنے بیان میں مارکو روبیو نے اس موقع کو ’’تاریخی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مذاکرات دہائیوں پر محیط پیچیدہ تنازعات کے باوجود ایک اہم پیش رفت ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل محض جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ خطے میں گزشتہ 20 سے 30 برسوں سے جاری حزب اللہ کے اثر و رسوخ کے خاتمے اور ایک پائیدار امن کے قیام کی جانب پیش رفت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایک ایسا فریم ورک تشکیل دیا گیا ہے جس پر مستقبل میں پیش رفت ممکن ہے۔دوسری جانب اسرائیلی سفیر یخیئیل لیٹر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ واشنگٹن میں ہونے والی بات چیت سے یہ واضح ہوا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کئی اہم امور پر ایک ہی موقف رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد امن کا قیام ہے۔