روسی ادارے روساٹم کا ایران کے افزودہ یورینیم سے متعلق اہم بیان

Wait 5 sec.

ماسکو (19 اپریل 2026): روس نے کہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کے لیے تیار ہے۔روسی ریاستی جوہری توانائی ادارے روساٹم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کے مطابق روس اس بات پر غور کر رہا ہے کہ وہ ایران سے افزودہ یورینیم کی منتقلی میں کردار ادا کر سکتا ہے۔یہ بیان روساٹم کی صنعتی اشاعت ’اسٹرانا روساٹم‘ کے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہوا ہے، الیکسی لیکاچیف نے کہا کہ اس معاملے میں تکنیکی مسائل کے ساتھ ساتھ امریکا اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔BREAKING: The head of Russia’s state atomic energy company, Rosatom, Alexei Likhachev, says that Rosatom is ready to help with the removal of enriched uranium from Iran, reports Reuters. pic.twitter.com/Bj7tGK5I0k— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) April 18, 2026انھوں نے کہا ’’اس حوالے سے روس کو ایرانی فریق کے ساتھ تعاون کا مثبت تجربہ حاصل ہے، 2015 میں ایران کی درخواست پر روس نے پہلے ہی افزودہ یورینیم کی منتقلی میں مدد کی تھی، اور اب بھی ہم اس کے لیے تیار ہیں۔‘‘ایران نے افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی سے صاف انکار کر دیادوسری جانب دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ ایک نیا معاہدہ ’بہت قریب‘ ہے اور تہران تقریباً 440 کلو گرام انتہائی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر آمادہ ہو گیا ہے، تاہم ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بیان کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ادھر مارچ کے آغاز میں روساٹم نے ایران کے بوشہر نیو کلیئر پاور پلانٹ سے اپنے عملے کو واپس بلانا شروع کر دیا تھا، جب کہ وہاں جاری تعمیراتی کام بھی روک دیا گیا تھا۔