واشنگٹن (20 اپریل 2026): امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کا بحری جہاز توسکا ان کے پاس ہے اور امریکی بحریہ دیکھ رہی ہے کہ اس میں کیا ہے۔سوشل ویب سائٹ ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں صدر ٹرمپ نے ایرانی بحری جہاز پر حملے کے حوالے سے بتایا کہ ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والا ایرانی پرچم بردار جہاز تحویل میں لے لیا گیا ہے، ایرانی بحری جہاز نے ہماری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے بتایا کہ مال بردار بحری جہاز توسکا تقریباً 900 فٹ لمبا اور طیارہ بردار جہاز جیسا ہے، ہماری بحری ناکہ بندی توڑنے کی کوشش اس کے لیے اچھی نہیں رہی، ہمارے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرایئر یو ایس ایس اسپروانس نے اسے روک لیا۔امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز میں ایرانی بحری جہاز پر قبضہ کر لیا، ایرانی فوج کا جواب دینے کا اعلانٹرمپ کے مطابق ایرانی پرچم والے بحری جہاز کو خلیج عمان میں رکنے کے لیے وارننگ دی گئی تھی لیکن اس نے وارننگ نہیں مانی اس لیے کارروائی کرنی پڑی، ٹرمپ نے کہا ہماری بحریہ نے توسکا کے انجینئرنگ روم میں ہول کر دیا ہے، توسکا پر غیر قانونی سرگرمیوں کی تاریخ کی وجہ سے پابندی عائد ہے۔امریکی صدر نے بتایا کہ ایرانی پرچم والا جہاز اب امریکی میرینز کے پاس تحویل میں ہے۔ واضح رہے کہ ایرانی فوج نے اسے بحری قزاقی قرار دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس کا جواب دیا جائے گا۔