(19 اپریل 2026): اسپین نے غزہ میں نسل کشی اور مشرق وسطیٰ میں متوقع امن معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بننے کا الزام لگاتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اپنا تجارتی و سیاسی تعاون کا معاہدہ فوری ختم کر دے۔اندلس میں ایک جلسے سے خطاب میں پیڈرو سانچیز نے کہا کہ ایسی حکومت جو بین الاقوامی قوانین یا یورپی یونین کے اصولوں کی خلاف ورزی کرتی ہو وہ ہماری شراکت دار نہیں ہو سکتی۔یہ بھی پڑھیں: اٹلی نے دفاعی معاہدہ معطل کرنے کا اعلان کر دیااسپین منگل کے روز لکسمبرگ میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں باضابطہ طور پر اس معاہدے کو ختم کرنے کی تجویز پیش کرے گا۔ہسپانوی وزیر اعظم یورپی یونین میں اسرائیل کے سب سے بڑے ناقد کے طور پر ابھرے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگایا اور ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کو ایک بڑی غلطی قرار دیا۔اپنی تقریر کے دوران پیڈرو سانچیز نے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے فوری خاتمے کا بھی مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز اسپین، آئرلینڈ اور سلووینیا کے وزرائے خارجہ نے یورپی یونین کی اعلیٰ سفارت کار کاجا کلاس کو لکھے گئے ایک خط میں اسرائیل پر یورپی یونین کے ساتھ ایسوسی ایشن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ کی جانب سے سزائے موت کی منظوری اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آباد کاروں کی پرتشدد کارروائیاں بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔