تہران (19 اپریل 2026): ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلیے اپنا وفد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے بڑی شرط رکھ دی۔ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران نے تاحال اسلام آباد میں مذاکراتی وفد بھیجنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ جب تک امریکا کی بحری ناکہ بندی برقرار ہے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام کے بعد حالیہ دنوں میں ایک پاکستانی ثالث کے ذریعے ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات کا تبادلہ جاری رہا ہے۔یہ بھی پڑھیں: ’امریکی نائب صدر جے ڈی وینس مذاکرات کیلئے پاکستان نہیں جائیں گے‘پیغامات کا یہ تبادلہ اسی عمل کا تسلسل ہے جو مذاکرات کے ابتدائی دور کے دوران شروع ہوا تھا لیکن امریکا کے حد سے بڑھے ہوئے مطالبات اور عزائم کی وجہ سے ناکام ہوگیا تھا۔ان مذاکرات کے خاتمے کے بعد سے پاکستانی ثالث حالیہ عرصے میں دونوں فریقوں کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔ایران کی مذاکراتی ٹیم نے اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ جب تک ایرانی بحری ناکہ بندی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فیصلہ برقرار ہے تب تک کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔