یا سب کے لیے آزاد آئل مارکیٹ یا سب کے لیے بھاری قیمت، ایرانی نائب صدر

Wait 5 sec.

تہران (20 اپریل 2026): ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے دنیا پر واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی مفت نہیں ہے، ایران پر پابندیاں اور دوسروں کو سہولت ممکن نہیں۔محمد رضا عارف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا آبنائے ہرمز کی سلامتی مفت نہیں ہے، ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرتے ہوئے دوسروں کے لیے مفت سیکیورٹی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔انھوں نے لکھا ’’انتخاب واضح ہے: یا تو سب کے لیے تیل کی آزاد منڈی ہو، یا پھر سب کو بھاری قیمت کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے۔ عالمی ایندھن کی قیمتوں میں استحکام اس بات پر منحصر ہے کہ ایران اور اس کے اتحادیوں کے خلاف اقتصادی اور فوجی دباؤ کا مستقل اور یقینی خاتمہ ہو۔‘‘The security of the Strait of Hormuz is not free. One cannot restrict Iran’s oil exports while expecting free security for others. The choice is clear: either a free oil market for all, or the risk of significant costs for everyone. Stability in global fuel prices depends on a…— Aref| First VP Iran (@fvpresidentiran) April 19, 2026 ان کا کہنا تھا کہ عالمی ایندھن قیمتوں کا استحکام دباؤ کے خاتمے سے جڑا ہے، ایران اور اس کے اتحادیوں پر معاشی و عسکری دباؤ ختم کیے بغیر خطے میں استحکام ممکن نہیں ہے۔’پیٹرول کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، فوری بڑی کمی کا امکان نہیں‘دریں اثنا، ایران نے امریکی بحری ناکہ بندی جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی قرار دی ہے اور کہا ہے کہ یہ امریکا کا غیر قانونی اور مجرمانہ فعل ہے۔ ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی یو این چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی قرارداد کے تحت یہ اقدام براہ راست جارحیت اور ایرانی عوام کو دانستہ اجتماعی سزا دینے کے مترادف ہے۔انھوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی بندرگاہوں کو بند کرنا کھلی دشمنی ہے، جسے عالمی برادری کسی صورت نظر انداز نہیں کر سکتی۔