لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی آج تمل ناڈو کے دورے پر ہیں، جہاں وہ مختلف انتخابی جلسوں کو خطاب کریں گے۔ اس بار کانگریس تمل ناڈو میں انتہائی متحرک نظر آ رہی ہے اور پارٹی لیڈران کی کوشش ہے کہ کسی بھی حال میں بی جے پی اتحاد کو ریاست میں کامیاب نہ ہونے دیا جائے۔ راہل گاندھی آج تمل ناڈو میں 3 مقامات پر عوامی اجلاس سے خطاب کرنے والے ہیں، جس میں وہ عوام کو ملک کے تئیں پارٹی کی خدمات اور عوام کے لیے کئے گئے کاموں پر روشنی ڈالیں گے۔Today, LoP Shri @RahulGandhi will address public meetings in Kanyakumari, Tirunelveli and Thoothukudi. Tamil NaduStay tuned to our social media handles for live updates. https://t.co/NGgQ2sGraH https://t.co/17P1scygNJ https://t.co/4uLWRC44PR pic.twitter.com/OEdhH38dZU— Congress (@INCIndia) April 20, 2026کانگریس کے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر جاری ایک پوسٹ میں جانکاری دی گئی ہے کہ راہل گاندھی پیر کے روز صبح 11 بجے لکشمی پورم، کنیا کماری میں عوامی جلسے کو خطاب کریں گے، جبکہ 12.30 بجے دوپہر ننگنیری، ترونیلولی میں اور 1.45 بجے سری ویکنٹم، توتوکوڑی میں جلسہ عام سے خطاب کریں گے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اپنے سینئر لیڈر کی آمد اور ان کا خطاب سننے کے لیے پارٹی کارکنان کے ساتھ ساتھ عوام میں بھی بڑا جوش پایا جا رہا ہے۔تمل ناڈو اسمبلی انتخابات: کانگریس نے اپنی فہرست کی جاری، 27 امیدواروں کا اعلانواضح رہے کہ جنوبی ہندوستان کی ریاست تمل ناڈو میں اسمبلی انتخاب ایک ہی مرحلہ میں 23 اپریل کو ہونا ہے، جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ اسمبلی انتخاب کے پیش نظر ریاست میں کانگریس و ڈی ایم کے اتحاد اور بی جے پی و اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد کے درمیان زبردست مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ کانگریس کی کوشش ہے کہ وہ گزشتہ اسمبلی انتخاب کے مقابلے اپنی کارکردگی میں بہتری لائے، اور اس کے لیے پارٹی عہدیداران و کارکنان نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ کانگریس لیڈران صبح سے شام تک عوام کے درمیان رہ کر زیادہ سے زیادہ ووٹرس کو اپنی طرف راغب کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔پرینکا گاندھی نے بی جے پی حکومت کے خلاف ’فرد جرم‘ کیا جاری، بدعنوانی میں غرق ہونے کا عائد کیا الزاماس دوران کانگریس ریاست میں اپنے اتحادی ڈھانچے کے اندر مضبوط پوزیشن حاصل کرنے کی بھی کوششیں کر رہی ہے۔ امیدواروں کے اعلان میں مختلف طبقات اور علاقوں کو نمائندگی دے کر پارٹی نے پہلے ہی توازن قائم رکھنے کی حکمت عملی اپنا کر مخالف خیمے میں کھلبلی مچا دی تھی۔ انتخابات کے پیش نظر امیدواروں کے انتخاب میں تجربہ اور مقامی اثر و رسوخ کو خاص اہمیت دی گئی ہے، جس سے انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔