جب تمل ناڈو ترقی کی راہ پر گامزن ہے، مودی حکومت اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی: ملکارجن کھڑگے

Wait 5 sec.

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے تمل ناڈو کے ویلاچیری میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک ’خطرناک کھیل‘ کھیلنے کی کوشش کی، جس کے تحت خواتین کے ریزرویشن کو 2011 کی مردم شماری پر مبنی حد بندی (ڈیلمیٹیشن) سے جوڑنے کا راستہ نکالا گیا۔ حالانکہ اس کوشش کو ناکام کر دیا گیا۔The BJP government tried to play a dangerous game in Parliament by attempting to link women’s reservation with delimitation based on the 2011 Census.Instead of rewarding Tamil Nadu, they sought to reduce its voice in Parliament. The Congress party in Delhi led from the front,… pic.twitter.com/rwSkw1ujGT— Mallikarjun Kharge (@kharge) April 21, 2026کھڑگے نے کہا کہ اس قدم کے ذریعے تمل ناڈو جیسی ریاستوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کو کم کرنے کی سازش کی جا رہی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس پارٹی نے دہلی میں اس معاملے پر آواز بلند کی اور تمام اپوزیشن پارٹیاں ایک ساتھ آ کر اس بل کی مخالفت میں کھڑی ہوئیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مودی حکومت کی اس سازش کو ناکام بنایا جا سکا۔ انھوں نے اسے ایک بڑی جیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ صرف سیاسی کامیابی نہیں بلکہ ملک کے ہر شہری کے لیے انصاف اور وفاقی نظام کی جیت ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اتحاد نے یہ ثابت کر دیا کہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔مرکزی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ جب تمل ناڈو ترقی کی راہ پر گامزن ہے، تب بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت اسے پیچھے دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے ساتھ سوتیلا سلوک روا رکھا جا رہا ہے، حالانکہ ریاست معیشت میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایک طرف تمل ناڈو کو ٹیکس محصولات میں اس کے حصے سے کم رقم دی جا رہی ہے، دوسری طرف ’سمگر شکشا ابھیان‘ کے تحت ملنے والی فنڈنگ مرکزی پالیسیوں کی مخالفت کی وجہ سے روکی جا رہی ہے۔ کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ سیلاب اور طوفان جیسی قدرتی آفات کے دوران بھی مرکز کا ردعمل مایوس کن رہا اور ریاستی عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔گورنر کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس صدر نے کہا کہ وہ غیر جانبدار رہنے کے بجائے منتخب ریاستی حکومت کے کام کاج میں مداخلت کر رہے ہیں، جس سے جمہوری نظام متاثر ہو رہا ہے۔ کھڑگے نے اپنے خطاب میں زور دے کر کہا کہ تمل ناڈو کے عوام اس ناانصافی کو برداشت نہیں کریں گے اور آنے والے انتخاب میں اس کا بھرپور جواب دیں گے۔