امریکی وزیر محنت لوری چاویز ڈی ریمر نے استعفیٰ دے دیا

Wait 5 sec.

واشنگٹن (21 اپریل 2026): امریکی وزیر محنت چاویز ڈی ریمر بدانتظامی کی تحقیقات کے دوران امریکی وزیرِ محنت کے عہدے سے مستعفی ہو گئیں۔روئٹرز کے مطابق امریکی وزیرِ محنت لوری چاویز-ڈی ریمر نے پیر کے روز محکمے میں مبینہ بدانتظامی کے الزامات کے باعث عین اس وقت استعفیٰ دے دیا، جب محکمۂ محنت کے انسپکٹر جنرل اور ان کے قریبی معاونین سے متعلق الزامات کی تحقیقات مکمل کرنے کے قریب ہیں۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ان کے نائب کیتھ سونڈر لِنگ عبوری وزیر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔ لوری چاویز ڈی ریمر کابینہ چھوڑنے والی تیسری رکن بن گئی ہیں۔چاویز-ڈی ریمر نے ایک بیان میں کہا ’’اگرچہ انتظامیہ میں میری خدمات کا وقت ختم ہو رہا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں امریکی کارکنوں کے لیے لڑنا چھوڑ دوں گی۔ میں نجی شعبے میں جانے کے بعد مستقبل کے امکانات کے لیے پُرامید ہوں۔‘‘ٹرمپ امریکا کو ایک اور تباہ کن ڈیل میں نہیں جھونکیں گے، وائٹ ہاؤسمحکمۂ محنت کے انسپکٹر جنرل کے تحت کئی ماہ سے جاری تحقیقات اختتامی مرحلے میں ہے، یہ کیس پیشہ ورانہ بدانتظامی کے الزامات پر مبنی ہے۔ اس میں یہ دعوے بھی شامل ہیں کہ چاویز-ڈی ریمر کا اپنی سیکیورٹی ٹیم کے ایک رکن کے ساتھ تعلق تھا اور انھوں نے ذاتی سفروں کے لیے محکمے کے وسائل استعمال کیے۔ توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے میں ان کا انٹرویو بھی کیا جائے گا۔یاد رہے کہ کرسٹی نوم کو مارچ میں محکمۂ داخلی سلامتی کی سیکریٹری کے عہدے سے برطرف کیا گیا تھا، جب کہ پام بونڈی ایک ماہ سے بھی کم عرصے بعد اٹارنی جنرل کے عہدے سے الگ ہو گئیں۔چاویز نے مارچ 2025 میں اس ادارے کی سربراہی سنبھالی تھی، اس سے قبل وہ دو سال تک امریکی ایوانِ نمائندگان کی رکن رہیں۔ ان کی نامزدگی کو امریکی سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ مستعفی وزیر محنت نے اپنے بیان میں صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔