اقوام متحدہ کا آبنائے ہُرمز کی بندش سے بڑے عالمی غذائی بحران کا انتباہ

Wait 5 sec.

روم(17 اپریل 2026): اقوام متحدہ نے آبنائے ہُرمز کی بندش کے نتیجے میں دنیا کو درپیش ایک بڑے غذائی بحران سے متعلق سنگین خبردار کر دیا ہے۔اقوام متحدہ کے ادارے برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے چیف اکانومسٹ میکسیمو ٹوریرو نے کہا ہے کہ حالات نازک ہیں اور وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔میکسیمو ٹوریرو کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلا دیش، سری لنکا، سوڈان، کینیا، برازیل اور تھائی لینڈ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اگلی فصلیں لگانے کا اہم وقت آچکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہُرمز ایک ایسی اہم گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کا 35 فیصد تیل، 20 فیصد قدرتی گیس اور عالمی ضرورت کی 20 سے 30 فیصد کھاد گزرتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس بحری گزرگاہ کی بندش سے سپلائی چین رک گئی ہے۔ اگر کسانوں کو بروقت کھاد نہیں ملے گی تو وہ فصلیں کم لگائیں گے، اور کھاد کی عدم دستیابی کی وجہ سے پیداوار بھی متاثر ہوگی۔ اس صورتحال کا براہ راست نتیجہ پوری دنیا میں غذا کی شدید قلت کی صورت میں نکلے گا۔میکسیمو ٹوریرو نے مزید کہا کہ اگر چند دنوں میں آبنائے ہُرمز کھل بھی جاتی ہے تو تیل، کھاد اور گیس کی آمد و رفت کو معمول پر آنے میں کم از کم تین ماہ لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بندش سے جو نقصان ہوچکا ہے، اس کے اثرات سے باہر نکلنے میں دنیا کو کئی مہینے لگ جائیں گے۔