امریکا نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والوں پر پابندیاں لگا دیں

Wait 5 sec.

امریکا نے ایران کو اسلحہ فراہم کرنے والی کمپنیوں اور افراد پر نئی پابندیاں لگا دیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے ایران، ترکیہ اور یواےای کے افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران اور اس سے منسلک کمپنیوں اور افراد پر پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ نے افراد اور کمپنیوں پر ہتھیاروں کی فراہمی میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ان پابندیوں کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران نے امریکا کی جانب سے بحری جہازوں پر قبضے کو جنگ کے اقدام کے طور بیان کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے اسلام آباد آنے سے انکار کیا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ملکی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کو جنگی عمل قرار دے دیا۔عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جنگی عمل ہے، ناکہ بندی جیسے اقدامات جنگ بندی کی خلاف ورزی بھی ہیں۔ایرانی وزیر خارجہ نے لکھا کہ تجارتی جہاز پر حملہ کرنا اور عملے کو یرغمال بنانا جنگ بندی کی بڑی خلاف ورزی ہے، ایران اس طرح کی پابندیوں کو بے اثر کرنے کے طریقے جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ مفادات کا دفاع اور غنڈہ گردی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے۔واضح رہے کہ عباس عراقچی کی جانب سے مذکورہ بیان امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے دورہ پاکستان مؤخر کیے جانے کی خبر کے فوراً بعد سامنے آیا ہے۔قبل ازیں، نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں دعویٰ کیا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا دورہ پاکستان مؤخر کر دیا گیا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر اہلکاروں نے نیویارک ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ ایران کا مثبت ردعمل نہ آنے پر جے ڈی وینس کا دورہ مؤخر کیا گیا، البتہ تہران کا مثبت ردعمل آنے پر فیصلہ تبدیل کیا جا سکتا ہے۔اس سے قبل ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات کیلیے ایرانی وفد کے اسلام آباد جانے کا فیصلہ ابھی نہیں ہو سکا۔ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی بحری ناکہ بندی، ایرانی جہاز پر قبضے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر سخت تشویش ہے، ہم نیک نیتی اور سنجیدگی سے مذاکرات میں گئے لیکن امریکی حکام نے غیر سنجیدگی ظاہر کی۔