برلن : جرمنی میں ہزاروں ٹن آلو لوگوں میں مفت تقسیم کردیے گئے، یہ تجربہ خوراک کے ضیاع کو روکنے میں کامیاب رہا۔یورپ کے ترقی یافتہ ملک جرمنی میں ایک دلچسپ اور غیر معمولی واقعہ سامنے آیا، جہاں ہزاروں ٹن آلو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے عوام میں مفت تقسیم کر دیے گئے۔رپورٹ کے مطابق ایک تاجر نے ایک زرعی کمپنی سے تقریباً 4ہزار ٹن آلو آرڈر کیے تھے، جو وزن میں لگ بھگ 800 ہاتھیوں کے برابر بنتے ہیں۔تاہم گزشتہ سال جرمنی میں آلو کی فصل غیر معمولی حد تک اچھی ہوئی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں آلو کی بھرمار ہوگئی اور قیمتیں گرگئیں۔اسی صورتحال کے باعث مذکورہ تاجر نے اپنا آرڈر وصول ہی نہیں کیا، جس کے سبب اتنی بڑی مقدار میں آلو ضائع ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا۔عام طور پر ایسی اضافی خوراک کو کچرے میں پھینک دیا جاتا ہے، جہاں وہ سڑ کر میتھین گیس خارج کرتی ہے جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جرمنی میں قانون کے مطابق اگر کسی خوراک کو ایک بار کچرے میں ڈال دیا جائے تو اسے دوبارہ نکالنا غیر قانونی ہوتا ہے، چاہے وہ استعمال کے قابل ہی کیوں نہ ہو۔اس صورتحال میں ایک مقامی این جی او اور ایک اخبار نے اس مسئلے کا انوکھا حل تلاش کیا۔ انہوں نے برلن کے مختلف علاقوں میں ’پوٹیٹو پک اپ اسٹیشنز‘ قائم کیے، جہاں شہریوں کو یہ پیشکش کی گئی کہ وہ یہاں سے مفت آلو حاصل کرسکتے ہیں۔ان کا یہ کام غیر معمولی طور پر مقبول ثابت ہوا، جیسے ہی آلو ان اسٹیشنز پر پہنچائے گئے، لوگوں کی بڑی تعداد وہاں پہنچ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام آلو ختم ہوگئے۔کچھ افراد نے افسوس کا اظہار بھی کیا کہ وہ وقت پر نہ پہنچ سکے اور مفت آلو حاصل نہ کرسکے، لیکن مجموعی طور پر عوام نے اس اقدام کو سراہا۔یہ تجربہ نہ صرف خوراک کے ضیاع کو روکنے میں کامیاب رہا بلکہ اس نے یہ بھی ثابت کیا کہ اگر نیک نیتی سے کوئی حکمت عملی اپنائی جائے تو اضافی وسائل کو ضائع ہونے سے بچایا جاسکتا ہے۔