جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا، ایران کا معاملہ بڑے معاہدے کیساتھ ختم ہو جائے گا: ٹرمپ

Wait 5 sec.

واشنگٹن (21 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عارضی جنگ بندی میں توسیع کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائی شروع کرنے کیلیے تیار ہے۔امریکی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی میں توسیع نہیں چاہتا ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے دوبارہ آغاز کیلیے تیار ہیں۔یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ اپنے تصورات میں مذاکرات کی ٹیبل کو سرنڈر ٹیبل بنا رہے ہیں، باقر قالیبافڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس کی ناکہ بندی ایک بڑی کامیابی ہے۔آبنائے ہرمز جو جہاز پکڑے اس میں ایران کیلیے تحائف تھےانہوں نے دعویٰ کیا کہ حیرت ہوئی ہم نے کل آبنائے ہرمز میں جو جہاز پکڑے اس میں ایران کیلیے تحائف تھے جو چین سے جا رہے تھے، چینی صدر شی جی پنگ سے میری اچھی انڈر اسٹیڈنگ ہے لیکن جنگ میں سب چلتا ہے، اس جہاز میں جو کچھ تھا وہ کچھ زیادہ اچھا نہیں تھا۔ایران کا معاملہ ایک بڑے معاہدے کے ساتھ ختم ہو جائے گاامریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ ایران کا معاملہ ایک بڑے معاہدے کے ساتھ ختم ہو جائے گا، تہران میں جو کچھ ہوا وہ حکومت کی تبدیلی ہے، ایرانی بحریہ اور فضائیہ تباہ کر دی جبکہ اس کے کمانڈر بھی نہیں رہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں جلد بڑا معاہدہ طے پا جائے گا، میرا خیال ہے ایران سے بہترین معاہدے کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے، وہ اس وقت جس نہج پر ہے اسے معاہدہ کرنا ہی پڑے گا۔مجھے کم عقل اور غدار لوگوں کی پرواہ نہیںامریکی صدر نے واضح کیا کہ اگر ایک یا دو دن میں معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ بمباری کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم نے ایران کو تہس نہس کر دیا اور ہم نے صرف 13امریکیوں کا نقصان کیا، لوگ کہتے ہیں کہ یہ ممکن نہیں کہ ہمارے صرف 13 لوگ مارے گئے، مجھے کم عقل اور غدار لوگوں کی پرواہ نہیں۔