واشنگٹن (16 اپریل 2026): امریکی سینٹکام نے ایرانی کارگو جہاز کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔امریکی فوج نے رات گئے اعلان کیا ہے کہ اس نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکابندی ’’مکمل طور پر نافذ‘‘ کر دی ہے اور افواج نے ’’ایران میں سمندری راستے سے ہونے والی تمام اقتصادی تجارت کو مکمل طور پر روک دیا ہے۔‘‘این بی سی نیوز کے مطابق امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایرانی جہاز نے گزشتہ روز امریکی ناکابندی سے بچنے کی کوشش کی، تاہم اسے ایک جنگی جہاز نے روک کر واپس موڑ دیا۔Yesterday, an Iranian-flagged cargo vessel tried to evade the U.S. blockade after leaving Bandar Abbas, exiting the Strait of Hormuz, and transiting along the Iranian coastline. The guided-missile destroyer USS Spruance (DDG 111) successfully redirected the vessel, which is… pic.twitter.com/EUnwhwYiDv— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 15, 2026 امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر کہا کہ ’’گزشتہ روز ایک ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز نے بندر عباس سے روانگی کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرتے ہوئے اور ایرانی ساحلی پٹی کے ساتھ سفر کرتے ہوئے امریکی ناکابندی سے بچنے کی کوشش کی۔ تاہم گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائر یو ایس ایس اسپروانس (DDG 111) نے کامیابی کے ساتھ اس جہاز کا رخ موڑ دیا، جو اب ایران واپس جا رہا ہے۔‘‘فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عباس عراقچی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکملسینٹکام کے مطابق اب تک کوئی بھی جہاز ناکابندی عبور نہیں کر سکا۔ ’’اب تک 10 جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے اور پیر سے شروع ہونے والی امریکی ناکابندی کے بعد ایک بھی جہاز اسے توڑنے میں کامیاب نہیں ہوا۔‘‘ایران کی جوابی دھمکیایران کی مسلح افواج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا اپنی ناکابندی جاری رکھتا ہے اور ایرانی تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے عدم تحفظ پیدا کرتا ہے تو ایران خلیج فارس، بحیرۂ عمان اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو روک سکتا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکی ناکابندی کے باوجود ایران کا محاصرہ نہیں کیا جا سکتا۔انھوں نے تہران میں کہا ’’اگر آپ سفارتی عمل میں ناکام رہتے ہیں اور دباؤ ڈالنے کے لیے دوسرے طریقے استعمال کرتے ہیں تو آپ یقیناً کامیاب نہیں ہوں گے۔‘‘ یاد رہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکابندی پیر کی صبح اس وقت نافذ ہوئی جب پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے ’’ہر جہاز‘‘ کو روکا جائے گا، تاہم امریکی فوج نے کہا ہے کہ ایسے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جائے گی جو غیر ایرانی بندرگاہوں کے درمیان سفر کر رہے ہوں۔