لبنانی حکام کو توقع ہے اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی جلد ہو جائے گی، فنانشل ٹائمز

Wait 5 sec.

بیروت (16 اپریل 2026): امریکا مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے، ایسے میں لبنانی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کو روکنے کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ’’جلد‘‘ متوقع ہے۔فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل اور لبنانی عسکریت پسند گروہ کے درمیان جنگ بندی ’’اسی ہفتے‘‘ نافذ ہو سکتی ہے، اور غالب امکان ہے کہ یہ اس وقت عمل میں آئے گی جب اسرائیلی زمینی افواج جنوبی لبنان کے اہم قصبے بنت جبیل پر قبضہ مکمل کر لیں گی، یہ بات اس معاملے سے واقف دو افراد نے بتائی۔لبنان میں جاری تنازع امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کی وسیع تر کوششوں میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے، جو 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ منگل ایران کے ساتھ 14 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو اسرائیل پر بھی لاگو ہوتی تھی، لیکن واشنگٹن اور تہران اسلام آباد میں ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات میں مستقل امن معاہدے پر متفق نہ ہو سکے تھے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق جنوبی لبنان میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، حزب اللہ اور اسرائیلی فوج آمنے سامنے ہے، بنت جبیل میں اسرائیلی فوج کی بمباری سے انفرااسٹرکچر تباہ اور کئی گھر مسمار ہو گئے، قصبے کے داخلی راستوں اور المیحانیہ محور پر وقفے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی ہیں، اسرائیلی فورسز نے گرینڈ مارکیٹ کے داخلی حصے پر کئی گھروں کو مسمار کیا، تبنین شہر پر اسرائیلی فضائی حملہ میں مقامی اسپتال کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ایران اور ثالث کا کردار ادا کرنے والا پاکستان اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ لبنان بھی جنگ بندی کا حصہ ہے، جب کہ امریکا اور اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ حزب اللہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی سب سے اہم پراکسی قوت ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے کرنے کی کوششیں جاری ہیں جس کے لیے پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر بدھ کو تہران پہنچے ہیں۔امریکا بمقابلہ ایران: سمندر میں پہلی بڑی ٹکر سامنے آ گئیٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن نے لبنان میں جنگ بندی کی کوشش نہیں کی، اور یہ معاملہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے الگ ہے۔ تاہم عہدیدار نے کہا کہ امریکا اسرائیلی اور لبنانی حکومتوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ امن معاہدے کے لیے ’’راستہ ہموار‘‘ کیا جا سکے۔بدھ کی رات جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنا رہی ہیں اور ملک کے اندر خود ساختہ سیکیورٹی زون کو مضبوط کر رہی ہیں۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ لڑائی کا مرکز بنت جبیل ہے، جسے انھوں نے حزب اللہ کا مضبوط گڑھ قرار دیا اور کہا کہ اسرائیلی فوجیں اسے شکست دینے کے قریب ہیں۔لبنانی حکام کے مطابق اگر لبنان میں جنگ بندی کا اعلان ہوتا ہے تو اس کی مدت کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے دورانیے پر ہوگا۔