کیرالہ کے ضلع تریشور میں پٹاخہ فیکٹری میں ہوئے خوفناک دھماکے نے پورے علاقے کو ہلا کر رکھ دیا۔ رپورٹ کے مطابق اس سانحہ میں 13 افراد کی جان چلی گئی، جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ تریشور میں پٹاخہ فیکٹری میں ہونے والا دھماکہ، انتہائی افسوسناک ہے، جو کہ پورم تہوار سے چند دن پہلے ہوا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جانوں کا ضیاع اور تباہی کا پیمانہ دل دہلا دینے والا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ریسکیو آپریشن کو تیز کیا جائے اور تمام زخمیوں کو فوری اور معیاری طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔Deeply saddened to hear about the explosion at a fireworks facility in Thrissur, Kerala just days before Pooram.The tragic loss of lives and the scale of devastation is heartbreaking. My thoughts are with the families of the victims.The government must ensure swift rescue…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) April 21, 2026پرینکا گاندھی نے بھی اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع سے انتہائی افسردہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دل کی ہمدردیاں ان خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا، اور انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔اس سانحے پر دروپدی مرمو اور نریندر مودی نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ صدر نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی، جبکہ وزیر اعظم نے وزیر اعظم قومی راحتی فنڈ سے مہلوکین کے لواحقین کے لیے دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے پچاس ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا۔Deeply saddened by the loss of lives in the explosion at a fireworks facility in Thrissur, Keralam. My heart goes out to the families who have lost their loved ones. I pray for the speedy recovery of those injured and strength for all those affected.— Priyanka Gandhi Vadra (@priyankagandhi) April 21, 2026کیرالہ کی وزیر صحت وینا جارج نے بتایا کہ زخمیوں کے علاج کے لیے تریشور میڈیکل کالج میں بڑے پیمانے پر ایمرجنسی نظام نافذ کیا گیا ہے۔ ریاست کے مختلف اضلاع سے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیمیں طلب کی گئی ہیں اور برن یونٹس کو مکمل طور پر تیار رکھا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔خیال رہے کہ یہ دھماکہ منگل کی دوپہر تقریباً ساڑھے تین بجے تریشور ضلع کے وڈکنچیری میونسپلٹی کے منڈاتھیکوڈ گاؤں میں واقع ایک پٹاخہ یونٹ میں پیش آیا۔ اس وقت فیکٹری میں تقریباً 40 مزدور کام کر رہے تھے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق جائے حادثہ سے 10 لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ مزید تین افراد کے جسم کے حصے ملے ہیں، جو دھماکے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے اور انہیں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں رکھا گیا ہے۔ دیگر زخمیوں کو بھی مختلف اسپتالوں میں داخل کرایا گیا ہے۔ریسکیو آپریشن کے دوران امدادی ٹیموں کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ وقفے وقفے سے چھوٹے دھماکے ہوتے رہے، جس سے بچاؤ کام متاثر ہوا۔ دھماکے کے بعد فیکٹری میں شدید آگ بھڑک اٹھی اور پورے علاقے میں دھواں پھیل گیا، جس سے آس پاس کے لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔یہ دھماکہ تریشور پورم کی تیاریوں کے دوران پیش آیا، جو ملک کے معروف مذہبی تہواروں میں شمار ہوتا ہے اور جس میں شاندار آتش بازی کا اہتمام کیا جاتا ہے، تاہم اس حادثے نے خوشیوں کے اس موقع کو سوگ میں بدل دیا ہے۔