کیرالہ کے تھریشور میں پٹاخہ بنانے والی فیکٹری میں دھماکہ، 13 افراد ہلاک، متعدد زخمی

Wait 5 sec.

تھریشور کے علاقے منڈتھیکوڈو میں منگل (21 اپریل) کو ایک پٹاخہ بنانے والی یونٹ میں زوردار دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں تقریباً 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب شہر میں منعقد ہونے والے سالانہ ہندو مندر میلہ ’تھریشور پورم‘ کی تیاریاں چل رہی تھیں۔ جائے وقوعہ پر پہنچنے والے ریاستی حکومت کے ایک افسر نے بتایا کہ دھماکے کے وقت یونٹ میں تقریباً 40 افراد کام کر رہے تھے، کیونکہ منتظمین کی جانب سے ملازمین کے لیے دوپہر کا کھانا لایا گیا تھا۔13 killed in fire at fireworks storage unit in Kerala’s Thrissurhttps://t.co/tSk4nASUcQ— Economic Times (@EconomicTimes) April 21, 2026رپورٹس کے مطابق یہ دھماکہ اس پٹاخہ یونٹ میں ہوا، جہاں تھریشور پورم کے تھروومباڈی گروپ کے لیے آتش بازی کے نمونے تیار کیے جا رہے تھے۔ جائے وقوعہ پر بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد رکھا ہوا تھا، جس میں آگ لگنے کے بعد زوردار دھماکہ ہوا۔ واقعہ کے فوراً بعد کئی ایمبولنسں موقع پر پہنچیں اور انتظامیہ نے تھریشور میڈیکل کالج سمیت آس پاس کے اسپتالوں کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی تاکہ ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔Thrissur, Keralam: A fire broke out at a fireworks storage facility in Mundathikode, Thrissur district, leading to an incident. Six people have died, 13 have been rescued, and four others are suspected to be dead. Rescue and relief operations are ongoing as authorities continue… pic.twitter.com/PHm0MKeXOQ— IANS (@ians_india) April 21, 2026واضح رہے کہ دھماکے کے بعد علاقے میں گھنا دھواں اور آگ پھیل گئی، جس سے بچاؤ کی کارروائیوں میں بھی دشواری پیش آئی۔ جائے وقوعہ پر موجود نصف جلے اور بغیر پھٹے ہوئے دھماکہ خیز مواد کے باعث امدادی اور بچاؤ کا کام متاثر ہوا۔ پولیس اور ایمرجنسی خدمات کی ٹیمیں موقع پر پہنچ کر صورتحال کو قابو کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ اس کی آواز کئی کلومیٹر دور تک سنی گئی، جس سے دھماکے کی شدت اور وہاں موجود دھماکہ خیز مواد کی مقدار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ریاستی زیر انتظام ’کے آئی ایل اے‘ کے ملازمین نے بتایا کہ انہوں نے زوردار دھماکے کی آواز سنی اور پہلے انہیں لگا کہ یہ زلزلہ ہے۔ ایک افسر نے بتایا کہ ’’بعد میں جب ہم چائے کے لیے باہر آئے، تب ہمیں پتہ چلا کہ یہ دھماکہ تھا۔‘‘ واضح رہے کہ یہ حادثہ تھریشور پورم کی تیاریوں کے عروج کے دوران پیش آیا ہے، جب ایک روز پہلے ہی پرچم کشائی کے ساتھ میلے کا باقاعدہ آغاز ہوا تھا۔ فی الحال دھماکے کی اصل وجوہات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، لیکن تحقیقات میں پٹاخوں کے مواد کو ذخیرہ کرنے اور سنبھالنے میں حفاظتی معیارات کی سنگین خلاف ورزی کے خدشے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔قابل ذکر ہے کہ دھماکے کے بعد آس پاس کے علاقوں میں خوف و ہراس کا ماحول ہے اور کچھ وقت کے لیے معمولات زندگی بھی متاثر ہوا۔ انتظامیہ اب پٹاخوں کی تیاری اور ان کے ذخیرے سے متعلق حفاظتی پروٹوکول کا جائزہ لینے کی تیاری کر رہی ہے، کیونکہ تھریشور پورم کے دوران بڑے پیمانے پر آتش بازی ہوتی ہے، جس کے لیے سخت نگرانی اور قوانین کی پاسداری ضروری ہوتی ہے۔ فائر بریگیڈ اور پولیس کی ٹیمیں اب بھی موقع پر امدادی اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہیں اور حالات کو قابو میں کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ علاقے کا مکمل گھیراؤ کر لیا گیا ہے اور انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اگلی اطلاع تک جائے وقوعہ کے قریب نہ جائیں۔