کیا واقعی خلائی مخلوق موجود ہے؟ ٹرمپ کا یو ایف او سے متعلق سرکاری دستاویز جاری کرنے کا اعلان

Wait 5 sec.

فینکس (18 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خلائی مخلوق اور یو ایف او سے متعلق سرکاری دستاویز جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ ان کی انتظامیہ کی جانب سے یو ایف او سے متعلق مواد کے جائزے کے دوران کئی ’’دل چسپ‘‘ دستاویزات سامنے آئی ہیں، اور ابتدائی ریکارڈ جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔ٹرمپ نے امریکی ریاست ایریزونا کے شہر فینکس میں قدامت پسند تنظیم ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ کے ایک پروگرام میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ہمیں بہت سی نہایت دل چسپ دستاویزات ملی ہیں، اور ابتدائی طور پر انھیں بہت جلد جاری کیا جائے گا تاکہ آپ خود دیکھ سکیں کہ یہ مظاہر حقیقت رکھتے ہیں یا نہیں۔‘‘ٹرمپ نے فروری میں امریکی اداروں کو ہدایت دی تھی کہ وہ یو ایف اوز، نامعلوم فضائی مظاہر (Unidentified Aerial Phenomena) اور ممکنہ خلائی مخلوق سے متعلق سرکاری فائلیں جاری کرنا شروع کریں، کیوں کہ اس موضوع میں عوامی دل چسپی بہت زیادہ ہے۔مثبت چیزیں ہونے والی ہیں، کوئی ذہین شخص وائٹ ہاؤس آ رہا ہے: ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کو تجسس میں ڈال دیاانھوں نے یہ جائزہ اس وقت شروع کرنے کا حکم دیا جب انھوں نے سابق صدر براک اوباما پر الزام لگایا کہ انھوں نے ایک پوڈکاسٹ انٹرویو میں ’’خلائی مخلوق کے حقیقی ہونے‘‘ کا ذکر کر کے خفیہ معلومات غلط طریقے سے شیئر کیں۔ بعد میں اوباما نے وضاحت کی کہ اپنی صدارت کے دوران انھیں خلائی مخلوق سے کسی رابطے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، تاہم انھوں نے کہا کہ کائنات میں کہیں اور زندگی ہونے کے امکانات سائنسی طور پر کافی زیادہ ہیں۔ٹرمپ نے اپنے وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو یو ایف اوز سے متعلق دستاویزات جاری کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ انھوں نے خود بھی خلائی مخلوق کا کوئی ثبوت نہیں دیکھا اور وہ اس کے وجود کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہیں۔ حالیہ برسوں میں پینٹاگون نے یو ایف او سے متعلق رپورٹس کی تحقیقات کی ہیں، اور 2022 میں اعلیٰ فوجی حکام نے کہا تھا کہ انھیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جس سے ظاہر ہو کہ خلائی مخلوق زمین پر آئی یا یہاں حادثے کا شکار ہوئی ہو۔2024 میں پینٹاگون کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے اب تک امریکی حکومت کی تحقیقات میں کسی بھی خلائی ٹیکنالوجی کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور زیادہ تر مشاہدات دراصل عام اشیا یا قدرتی مظاہر کی غلط شناخت ثابت ہوئے ہیں۔