مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن کو جس طرح پیش کیا، اس کا پاس ہونا ممکن ہی نہیں تھا: پرینکا گاندھی

Wait 5 sec.

لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے متعلق آئین ترمیمی بل گرنے کے بعد پرینکا گاندھی نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ جس طرح یہ بل لایا گیا تھا، اسے پاس کرانا ممکن ہی نہیں تھا۔ لوک سبھا کی کارروائی ختم ہونے کے بعد پارلیمنٹ احاطہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن کو جس طرح سے پیش کیا، اس کا پاس ہونا ناممکن تھا۔‘‘मोदी सरकार ने महिला आरक्षण को जिस तरह से पेश किया, उसका पास होना नामुमकिन था। BJP सरकार ने महिला आरक्षण को परिसीमन और पुरानी जनगणना से जोड़ने का काम किया, जिसमें OBC वर्ग शामिल नहीं था।हम कभी इससे सहमत नहीं हो सकते। आज जो हुआ, वह देश के लोकतंत्र और उसकी अखंडता के लिए बहुत… pic.twitter.com/GZXtUY26fq— Congress (@INCIndia) April 17, 2026کانگریس رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی کا کہنا ہے کہ ’’بی جے پی حکومت نے خواتین ریزرویشن کو حد بندی اور پرانی مردم شماری سے جوڑنے کا کام کیا، جس میں او بی سی طبقہ شامل نہیں تھا۔ ہم کبھی اس سے متفق نہیں ہو سکتے۔ آج جو ہوا، وہ ملک کی جمہوریت اور اس کی سالمیت کے لیے بہت بڑی جیت ہے۔‘‘ برسراقتدار طبقہ کے ذریعہ اپوزیشن پارٹیوں کو خواتین مخالف بتائے جانے پر پرینکا نے سخت رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے سوال کیا کہ جنھوں نے ہاتھرس میں کچھ نہیں کیا، جنھوں نے اناؤ میں کچھ نہیں کیا، جنھوں نے منی پور میں کچھ نہیں کیا، جنھوں نے خواتین پہلوانوں کے لیے کچھ نہیں کیا، اب یہ لوگ خواتین مخالف ذہنیت کی بات کریں گے؟⦁ जिन्होंने हाथरस में कुछ नहीं किया⦁ जिन्होंने उन्नाव में कुछ नहीं किया⦁ जिन्होंने मणिपुर में कुछ नहीं किया⦁ जिन्होंने महिला पहलवानों के लिए कुछ नहीं कियाअब ये लोग महिला विरोधी माइंडसेट की बात करेंगे? : कांग्रेस महासचिव एवं सांसद @priyankagandhi जी pic.twitter.com/j71rwitG9E— Congress (@INCIndia) April 17, 2026لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے بھی پارلیمنٹ احاطہ میں میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے خواتین ریزرویشن بل پر مودی حکومت کی ناکامی سے متعلق اپنی رائے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ خواتین ریزرویشن بل نہیں تھا، یہ ہندوستان کے سیاسی و انتخابی اسٹرکچر کو بدلنے کی کوشش تھی، آئین پر حملہ تھا۔ ہم نے اسے روک دیا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’میں وزیر اعظم سے کہنا چاہتا ہوں، اگر آپ خواتین ریزرویشن بل لانا چاہتے ہیں تو 2023 کا خواتین ریزرویشن بل آج سے نافذ کر دیجیے۔ پورا اپوزیشن آپ کو 100 فیصد حمایت کرے گا۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’اگر ایسا کیا گیا تو ہم خواتین ریزرویشن بل فوراً نافذ کروا دیں گے۔‘‘ये महिला बिल नहीं था, ये हिंदुस्तान के राजनीतिक और इलेक्टोरल स्ट्रक्चर को बदलने की कोशिश थी, संविधान पर आक्रमण था। हमने इसे रोक दिया है।मैं प्रधानमंत्री से कहना चाहता हूं अगर आप महिला आरक्षण बिल लाना चाहते हैं, तो 2023 का महिला आरक्षण विधेयक आज से लागू कर दीजिए- पूरा विपक्ष… pic.twitter.com/geeBrKz8WY— Congress (@INCIndia) April 17, 2026