امریکی فوج کا کہنا ہے کہ 10,000 سے زیادہ فوجی ایران کی بحری ناکہ بندی کے نفاذ پر عمل پیرا ہیں۔امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے ایک طیارہ بردار بحری جہاز کی تصویر شیئر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ ایران پر بحری محاصرہ کرنے میں حصہ لے رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ "10,000 سے زیادہ امریکی سیلرز، میرینز اور ایئر مین ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا جانے کی کوشش کرنے والے بحری جہازوں کے خلاف ناکہ بندی کو نافذ کر رہے ہیں۔An F/A-18E Super Hornet taxis on the flight deck of Nimitz-class aircraft carrier USS Abraham Lincoln (CVN 72) as it sails alongside the USS Delbert D. Black (DDG 119), April 16.Over 10,000 U.S. Sailors, Marines, and Airmen are enforcing the blockade against ships attempting… pic.twitter.com/yHzHPxYnzr— U.S. Central Command (@CENTCOM) April 17, 2026ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ ایران کے اس اعلان کے باوجود کہ آبنائے ہرمز اب تجارتی جہازوں کے لیے کھلا ہے، ناکہ بندی جاری رہے گی۔ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ اگر امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہی تو ایران آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ایران کے سرکاری میڈیا فارس نیوز نے جمعہ کو رپورٹ کیا کہ اگر امریکا اپنی بحری ناکہ بندی جاری رکھتا ہے تو ایران اسے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھے گا اور آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ایران نے آبنائے ہرمز فوری کھولنے کا اعلان کر دیافارس نیوز نے "سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے قریبی باخبر ذرائع” کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ آبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا "لبنان میں بعض شرائط کے نفاذ اور جنگ بندی پر منحصر ہے۔”ذرائع نے بتایا کہ آبنائے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو ایران کی طرف سے مقرر کردہ راستے سے گزرنا چاہیے اور ایرانی افواج کے ساتھ رابطہ کرنا چاہیے۔اس سے قبل جمعے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز "مکمل طور پر کھلا” ہے لیکن ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔