دہلی بی جے پی صدر اور دہلی اسمبلی اسپیکر کو زیڈ پلس سیکورٹی فراہم کرنا دہلی کے غیر محفوظ ہونے کا مظہر: دیویندر یادو

Wait 5 sec.

نئی دہلی: دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو نے دہلی کے بگڑتے نظامِ قانون پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے بی جے پی کی ٹرپل انجن حکومت کی اس معاملہ میں شدید تنقید کی کہ دہلی والوں کی سیکورٹی کو ترجیح دینے کی جگہ جمہوری اداروں کے خلاف کسی بھی قسم کے خطرے کے تئیں زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے اور قانون سازی کے وقار کو برقرار رکھنے کی آڑ میں اپنے لیڈروں کو زیڈ پلس سیکورٹی دی جا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی نے پہلے دہلی بی جے پی صدر وریندر سچدیوا اور اب اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا کو زیڈ پلس سیکورٹی فراہم کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہلی غیر محفوظ ہے۔دیویندر یادو نے کہا کہ وجیندر گپتا کو زیڈ پلس سیکورٹی دینے کے پیچھے انہیں موصول ہونے والی ای میل پر دھمکیاں اور اسمبلی احاطے تک ان کی گاڑی تک پہنچ کر کسی شخص کا مشتبہ چیز رکھنے میں کامیاب ہونا تھا، جو سیکورٹی میں چوک کا ایک بڑا معاملہ ہے۔ میں مرکزی وزارت داخلہ سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آئی ایس آئی سے دھمکی آمیز ای میل کی کیا سیکورٹی ایجنسیوں نے جانچ بھی کی ہے؟ اگر جانچ کی ہے تو اسے عوامی کیوں نہیں کیا؟ دہلی اسمبلی اسپیکر، جمہوری اداروں، اسکولوں، کالجوں اور دیگر اداروں کو بم سے اڑانے کی مسلسل دھمکیاں ملنے کے باوجود کوئی کارروائی نہ ہونا سیکورٹی ایجنسیوں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔دیویندر یادو کے مطابق دہلی حکومت کا کہنا کہ دہلی اسمبلی اسپیکر اور اسمبلی کی سیکورٹی اہم ہے، تو کیا دہلی کی عوام، جن کے ساتھ کھلے عام بڑھتے جرائم، انارکی، ظلم، لوٹ، ڈکیتی، فائرنگ، اغوا، خواتین کے ساتھ جنسی استحصال، چھیڑ چھاڑ اور عصمت دری جیسے واقعات پیش آ رہے ہیں، ان کی سیکورٹی اہم نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اداروں اور آئینی عہدوں پر فائز افراد کو سیکورٹی فراہم کرنے سے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ریکھا گپتا حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مرکزی وزارت داخلہ کے ساتھ تال میل قائم کر کے دہلی والوں کی 24 گھنٹے سیکورٹی کو منظم کرنے کے لیے دہلی پولیس کو چست و درست کریں۔دیویندر یادو نے کا کہنا ہے کہ جب بی جے پی حکومت کے لیے آئینی عہدے داروں کی سیکورٹی اور اسمبلی احاطے کی سالمیت برقرار رکھنا ترجیح ہے تو عوامی نمائندوں کو اسمبلی تک پہنچانے والی دہلی کی عوام کو محفوظ رکھنا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خواتین خصوصاً چھوٹی بچیوں کے اغوا، عصمت دری اور جنسی استحصال کے واقعات سے راجدھانی دہلی میں خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کرتی ہیں۔دیویندر یادو نے کہا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے ای میل والی دھمکیوں کی جانچ کے بغیر وجیندر گپتا کو زیڈ پلس سیکورٹی دینا جلد بازی ہو سکتی ہے، کیونکہ زیڈ پلس زمرے کی سیکورٹی میں تقریباً 25-22 سیکورٹی اہلکار ہوتے ہیں، جس میں ذاتی سیکورٹی افسر، اسکارٹس، واچرز اور 8 مسلح گارڈ شامل ہیں، جو 24 گھنٹے ساتوں دن سیکورٹی میں تعینات رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ اپوزیشن کے لوگوں کی سیکورٹی واپس لے رہی ہے جبکہ 24 گھنٹوں میں وجیندر گپتا کے لیے زیڈ پلس سیکورٹی دینا اپنے لیڈروں کو خصوصی سہولت دینے کے عمل میں شامل ہے۔