انتخاب ختم ہوتے ہی پٹرول 18 روپے اور ڈیزل 35 روپے تک ہو سکتا ہے مہنگا، خسارے میں ہیں کمپنیاں

Wait 5 sec.

غیر ملکی بروکریج فرم ’میکویری‘ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں آئی بھاری تیزی کا بوجھ اب گھریلو تیل کمپنیوں (او ایم سی) کے لیے ناقابل برداشت ہوتا جا رہا ہے۔ حالانکہ فی الحال پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن اس سے کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں واراننگ دی گئی ہے کہ مغربی بنگال سمیت 5 ریاستوں میں جاری اسمبلی انتخاب ختم ہوتے ہی کمپنیاں قیمتوں میں بڑا اضافہ کر سکتی ہیں۔گزشتہ 46 دنوں میں خام تیل کی قیمتوں میں زبردست اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ 27 فروری کو جو خام تیل 73 ڈالر فی بیرل پر تھا وہ 19 مارچ کو 120 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا تھا اور فی الحال 100 ڈالر فی بیرل کے آس پاس بنا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق بین الاقوامی بازار میں تیل کی قیمت میں ہر 10 ڈالر کا اضافہ ہندوستانی کمپنیوں کے نقصان میں 6 روپے فی لیٹر کا اضافہ کرتا ہے۔واضح رہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود قیمتیں نہ بڑھنے کی وجہ سے تیل کمپنیوں کو پٹرول پر 18 روپے اور ڈیزل پر 35 روپے فی لیٹر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ یہ نقصان 2400 کروڑ یومیہ تک پہنچ گیا تھا، جو ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے کی تخفیف کے بعد اب 1600 کروڑ روپے یومیہ پر ہے۔ تشویشناک بات یہ ہے کہ سرکاری ریونیو میں تیل پر لگنے والی ایکسائز ڈیوٹی کا حصہ جو 2017 میں 22 فیصد تھا، اب کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے، جس کی وجہ سے حکومت کے پاس قیمتوں کو مزید کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 88 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس میں سے 45 فیصد مشرق وسطیٰ اور 35 فیصد روس سے آتا ہے۔ تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف مہنگائی میں اضافہ کرتی ہیں بلکہ ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ (سی اے ڈی) کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں یہ خسارہ بڑھ کر 20 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے، جو معیشت کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔قابل ذکر ہے کہ یہ مسئلہ صرف ہندوستان تک محدود نہیں ہے۔ امریکہ میں پٹرول کی قیمتیں اگست 2022 کے بعد پہلی بار 4 ڈالر فی گیلن کے پار نکل گئی ہے۔ ہندوستان کے پڑوسی ممالک پاکستان، نیپال اور سری لنکا پہلے ہی اپنی گھریلو قیمتوں میں بھاری اضافہ کر چکے ہیں۔ ایسے میں ہندوستان میں انتخاب کے بعد قیمتوں میں اضافے کا امکان کافی قوی نظر آ رہا ہے۔