’میرے والد نے تمل ناڈو کے لیے اپنا سب کچھ دیا‘، جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی کا جذباتی بیان

Wait 5 sec.

کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے ہفتہ (18 اپریل) کو تمل ناڈو میں اپنی انتخابی مہم کو تیز کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر سنگین الزامات عائد کیے۔ تروولور ضلع کے پونیری میں جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں حال ہی میں لایا گیا ایک بل تمل ناڈو کی سیاسی طاقت کو کمزور کرنے کی ایک کوشش ہے۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ جس بل کو خواتین ریزرویشن کے نام پر پیش کیا گیا، اس کا اصل مقصد حد بندی کے ذریعہ تمل ناڈو کی لوک سبھا سیٹوں کو کم کرنا تھا۔ راہل گاندھی کے مطابق یہ قدم جنوبی اور چھوٹی ریاستوں کی نمائندگی کو کمزور کرنے کی ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی ریاست کی شناخت کو نشانہ بنا رہے ہیں۔"No force on this planet can touch Tamil Nadu or its language."LoP Shri @RahulGandhi addressed a public meeting in Peruncheri, Ponneri today.Tamil Nadu pic.twitter.com/p4nHO9AS48— Congress (@INCIndia) April 18, 2026راہل گاندھی نے اپنے خطاب کے دوران جذباتی انداز میں کہا کہ اگرچہ ان کی پیدائش تمل ناڈو میں نہیں ہوئی، لیکن وہ خود کو ریاست کے لوگوں سے جڑا ہوا محسوس کرتے ہیں اور ریاست کے جذبات کو سمجھتے ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق ان کے والد راجیو گاندھی نے تمل ناڈو کے لیے اپنا سب کچھ دے دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستان ریاستوں کا ایک وفاق ہے، تمام ریاستوں کو اپنی شناخت اور زبان برقرار رکھنے کا حق ہے۔ لیکن یہ حکومت تمل زبان اور ثقافت کو مٹانا چاہتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ کسی بھی ریاست کی شناخت کو دبانے کی کوشش آئین کے خلاف ہے۔They (BJP-RSS) want to attack the Tamil language, distort its history, and weaken its culture. We will never allow that.The truth is, the BJP and the RSS do not understand the Tamil people or what Tamil means to them. They fail to recognise that Tamil civilisation carries a… pic.twitter.com/rIkV92y7Ok— Congress (@INCIndia) April 18, 2026کانگریس رکن پارلیمنٹ نے بی جے پی اور آر ایس ایس پر الزام عائد کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ تمل ناڈو کے لوگوں کے جذبات کو نہیں سمجھتے، اور نہ ہی انہیں تمل عوام کی ہزاروں سالہ تاریخ کے متعلق کوئی علم ہے۔ راہل گاندھی کے مطابق بی جے پی تمل ناڈو کو دہلی سے چلانا چاہتی ہے۔ بی جے پی تمل ناڈو میں ایک ایسا وزیر اعلیٰ چاہتی ہے جو دہلی سے آرڈر لے سکے اور انہی کے اشاروں پر کام کرے۔Yesterday in Parliament, the Modi government introduced a new Bill, claiming it to be a Women’s Bill, despite having already passed the same bill in 2023.Hidden within it was the issue of delimitation, aimed at reducing the representation of Tamil Nadu and weakening southern,… pic.twitter.com/0Gni4Je52D— Congress (@INCIndia) April 18, 2026جلسۂ عام سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کل پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت نے ایک نیا بل پیش کیا۔ انہوں نے اسے خواتین ریزرویشن بل بتایا، لیکن وہ تو 2023 میں ہی منظور ہو چکا تھا۔ اس بل کے پیچھے چھپا اصل ایجنڈا حد بندی تھا۔ اس کا مقصد ہندوستان کی پارلیمنٹ میں تمل ناڈو کی نمائندگی کو کم کرنا اور جنوبی و چھوٹی ریاستوں کو کمزور کرنا تھا۔ ہم نے کل پارلیمنٹ میں اس بل کو ہرا دیا۔We opposed and defeated the Bill to defend the idea of India, as enshrined in the Constitution. India, that is Bharat, is a Union of States, where every state must have a voice. Every state has the right to express itself, preserve its language, and protect its traditions. When… pic.twitter.com/6YTURdFBM8— Congress (@INCIndia) April 18, 2026بی جے پی کے طرز حکومت پر تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’جب وزیراعظم ایک قوم، ایک لیڈر، ایک زبان اور ایک عوام کی بات کرتے ہیں، تو وہ ہندوستان کے آئین پر حملہ کر رہے ہوتے ہیں۔‘‘ انتخابات سے قبل انڈیا بلاک کی حمایت کرتے ہوئے راہل گاندھی نے زور دے کر کہا کہ یہ اتحاد مرکزیت پسندی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرے گا۔ تمل ناڈو کو اپنا مستقبل خود طے کرنا ہوگا اور ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ان کی زبان، ثقافت اور حقوق کا تحفظ کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ تمل ناڈو اسمبلی انتخاب 23 اپریل کو ایک ہی مرحلہ میں منعقد ہونے والا ہے اور ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو ہوگی۔ اہم انتخابی مقابلہ ڈی ایم کے کی قیادت والے سیکولر پروگریسو الائنس (ایس پی اے) اور اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والے نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے درمیان ہونے کا امکان ہے، جس میں بی جے پی اور پٹالی مکل کچی (پی ایم کے) اتحادی ہیں۔ اداکار سے سیاست داں بنے وجے کی قیادت والی ’ٹی وی کے‘ ریاستی انتخابات کو سہ فریقی مقابلے میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔