لندن : ایران جنگ کو شروع ہوئے تقریباً 50 دن گزر گئے، اس دوران عالمی منڈی کروڑ بیرل خام تیل سے محروم رہی، جس کی مالیت 50 ارب ڈالر سے بھی زائد ہے۔اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس بحران کے اثرات آنے والے مہینوں بلکہ برسوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق فروری کے اختتام پر شروع ہونے والے اس بحران کے بعد سے اب تک 50 کروڑ بیرل سے زائد خام تیل اور کنڈینسیٹ عالمی منڈی سے باہر ہوچکا ہے جو کہ توانائی کی فراہمی میں موجودہ تاریخ کا سب سے بڑا خلل قرار دیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ کمی عالمی سطح پر 10 ہفتوں کے فضائی سفر کی طلب کے برابر ہے یا پھر پوری دنیا میں 11 دن تک سڑکوں پر گاڑیوں کی بندش کے مساوی ہے۔رپورٹ کے مطابق یہ خام تیل کی یہ مقدار امریکہ کی تقریباً ایک ماہ کی تیل کی طلب یا پورے یورپ کے ایک ماہ سے زائد استعمال کے برابر ہے جبکہ یہ مقدار امریکی فوج کی تقریباً 6 سال کی ایندھن ضروریات کو بھی پورا کرسکتی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے سبب خلیجی ممالک میں مارچ کے دوران یومیہ تقریباً 80 لاکھ بیرل تیل کی پیداوار متاثر ہوئی جو دنیا کی بڑی تیل کمپنیوں کی مجموعی پیداوار کے قریب ہے۔اسی دوران سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت، بحرین اور عمان سے جیٹ فیول کی برآمدات میں بھی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جو فروری کے 1 کروڑ 96 لاکھ بیرل سے کم ہو کر مارچ اور اپریل میں مجموعی طور پر صرف 41 لاکھ بیرل رہ گئی۔ماہرین کے مطابق اس کمی کے باعث تقریباً 20 ہزار بین الاقوامی پروازوں کے لیے درکار ایندھن متاثر ہوا، جس سے عالمی ہوا بازی صنعت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔تنازع کے دوران خام تیل کی اوسط قیمت 100 ڈالر فی بیرل کے قریب رہی، جس کے باعث غائب ہونے والی پیداوار کی مالیت تقریباً 50 ارب ڈالر بنتی ہے۔ماہر تجزیہ کار جوہانس رابال کے مطابق کویت اور عراق کے بھاری خام تیل کے ذخائر کو معمول کی پیداوار پر واپس آنے میں چار سے پانچ ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے باعث گرمیوں کے دوران ذخائر میں کمی کا سلسلہ جاری رہنے کا خدشہ ہے۔امریکا نے دوبارہ روسی تیل پر سے پابندیاں ہٹا دیں