لندن (18 اپریل 2026): مقبوضہ مغربی کنارے کے غیر قانونی الحاق کے منصوبوں پر برطانوی قانون سازوں نے اسرائیل پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کر دیا۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے 75 قانون سازوں نے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک قرارداد کی حمایت کی جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں زمینوں کے الحاق کے اقدامات پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔یہ بھی پڑھیں: یہودیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خیمے اور گاڑیاں جلا دیںرکن برطانوی پارلیمنٹ رچرڈ برگن کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں فلسطینی اراضی کو سرکاری زمین کے طور پر رجسٹر کر کے اسے قانونی شکل دینے کے اسرائیلی فیصلے کی شدید مذمت کی گئی۔ قرارداد میں اس اقدام کو غیر قانونی اور مقبوضہ علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی ایک کوشش قرار دیا گیا۔قانون سازوں نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے کا حوالہ بھی دیا جس میں فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی موجودگی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔قرارداد میں اہم مطالباتبرطانوی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی پالیسیوں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق بنائے اور قبضے کو برقرار رکھنے میں مددگار ہر قسم کی حمایت بند کرے۔بستیوں سے وابستہ اقتصادی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ ان کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری زمینی سطح پر اسرائیل کے کنٹرول کو مزید مضبوط کرتی ہے۔قانون سازوں نے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا جن میں مقبوضہ زمینوں پر قائم غیر قانونی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیاء اور خدمات پر پابندی اور قبضے کو مستحکم کرنے کے ذمہ دار افراد اور اداروں پر سفری پابندیاں اور ان کے اثاثے منجمد کرنا شامل ہے۔