مدھیہ پردیش کی راجدھانی بھوپال میں درختوں کی کٹائی اور شجرکاری کی حقیقت کو لے کر نیشنل گرین ٹریبونل (این جی ٹی) نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ این جی ٹی نے بھوپال میونسپل کارپوریشن اور محکمہ جنگلات سے حلف نامہ کے ذریعہ تفصیلی اعداد و شمار پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔ خاص طور پر گزشتہ 5 سالوں میں کاٹے گئے درختوں کی مجموعی تعداد، ان کے بدلے جمع کی گئی رقم اور اس فنڈ کے استعمال کا مکمل حساب مانگا گیا ہے۔ معاملے کی سماعت میں یہ بھی سامنے آیا کہ کئی نکات پر واضح ڈیٹا دستیاب نہیں ہے، جس پر این جی ٹی نے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔این جی ٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 4105 درختوں کی کٹائی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر کولار علاقہ میں درختوں کی زیادہ کٹائی ہوئی ہے۔ شجرکاری کے لیے ملے کروڑوں روپے کے فنڈ کے استعمال پر واضح معلومات فراہم نہیں کی گئی ہے۔ لگائے گئے پودوں کی بقا کی شرح انتہائی کم ہے، درست فیصد رپورٹ میں نہیں دی گئی ہے۔ کئی مقامات پر 5 فٹ اونچائی کے پودے لگانے کا اصول بھی درست طریقے سے نافذ نہیں کیا گیا۔ درختوں کی کٹائی اور معاوضہ کے لیے الگ سے فنڈ اکاؤنٹ تک نہیں پایا گیا۔سماعت کے دوران این جی ٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر شہر کی ہوا کا معیار مزید خراب ہوتا ہے تو گریپ (گریڈ ریسپانس ایکشن پلان) نافذ کیا جائے گا۔ اس کے تحت تعمیری سرگرمیوں پر روک، ڈسٹ کنٹرول اور دیگر سخت قدم اٹھائے جائیں گے۔ آلودگی کمیٹی کے 5 اراکین کو طلب کیا گیا ہے اور اگلی سماعت میں تمام کو ذاتی طور پر موجود رہ کر جواب دینا ہوگا۔ این جی ٹی کا یہ رخ صاف اشارہ دیتا ہے کہ اب بغیر ٹھوس اعداد و شمار کے کوئی بھی محکمہ بچ نہیں پائے گا۔دوسری جانب اس معاملے پر این جی ٹی میں کیس لڑ رہے ماحولیاتی کارکن نتن سکسینہ نے الزام عائد کیا کہ بھوپال میونسپل کارپوریشن نے آج تک یہ واضح نہیں کیا کہ 4 ہزار درخت کاٹنے کے بدلے کتنے درخت لگائے؟ جہاں کا دعویٰ کیا گیا وہاں کوئی درخت نہیں لگایا۔ ایک درخت کاٹنے کی جگہ 4 پودے لگانے ہوتے ہیں، جن کی اونچائی 5 فٹ ہونی چاہیے، لیکن پودے نہیں لگے۔واضح رہے کہ کانگریس لیڈر وویک ترپاٹھی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ آج تک حکومت نے ترقی کے نام پر لاکھوں درخت کاٹے ہیں، لیکن اس کے بدلے کتنے لگائے ہیں، اس کا کوئی حساب آج تک نہیں دے سکی۔ اسی بات کو لے کر این جی ٹی نے پھٹکار لگائی ہے۔ بی جے پی کے ترجمان شیوم شکلا نے کہا کہ جب بھی کوئی درخت کاٹا گیا ہے، اس کے بعد درخت لگائے گئے ہیں۔ فی الحال جو معاملہ ہے، اس میں بھی حکومت مضبوطی کے ساتھ اپنا موقف این جی ٹی میں رکھے گی۔