لندن میں یہودی کاروباری ادارے کو نذرآتش کرنے کی کوشش

Wait 5 sec.

لندن : شمالی لندن میں آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک یہودی کاروباری ادارے کو نذرآتش کرنے کی کوشش کی گئی تھی، پولیس نے 4 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔دی گارڈینز کی رپورٹ کے مطابق کاؤنٹر ٹیرر ازم پولیس نے ایمبولینسوں کو جلانے کے واقعے کی فوری تحقیقات کا آغاز کیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق کیمیکل کی 3 بوتلوں کے ذریعے دکان کو نشانہ بنایا گیا، تاہم عمارت کو معمولی نوعیت کا نقصان پہنچا۔لندن پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بظاہر دہشت گردی سے متعلق نہیں، کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا۔پولیس کے مطابق حملے کا ایمبولینسوں یا اسرائیلی سفارت خانے کے خلاف حالیہ سرگرمیوں سے بھی کوئی تعلق نہیں ملا، متاثرہ علاقے کو سیل کردیا گیا ہے۔تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یہودی ادارے کی ایمبولینسوں کو نذرِ آتش کرنے کے کیس میں چوتھے ملزم 18 سالہ جوڈیکس اتشاتشی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کردیا جہاں سے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔استغاثہ کے مطابق 23 مارچ کی صبح گولڈرز گرین کے علاقے میں رضاکارانہ ایمبولینس سروس "ہٹزولا” کی چار گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، جس کے نتیجے میں ان میں موجود گیس سلنڈرز پھٹ گئے اور تقریباً 10 لاکھ پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔اس سے قبل دو برطانوی نوجوان حمزہ اقبال (20) اور ریحان خان (19) جبکہ ایک 17 سالہ دوہری برطانوی-پاکستانی شہریت رکھنے والا لڑکا بھی اسی نوعیت کے الزامات کے تحت گرفتار ہو کر جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا جا چکا ہے۔