’آبنائے ہرمز سے ہمارے جہازوں کو راستہ دیا جائے‘، ہندوستانی جہاز پر فائرنگ کے بعد ایران کو ہندوستان کی دو ٹوک

Wait 5 sec.

آبنائے ہرمز میں 2 ہندوستانی جہازوں پر حملے کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ کا بیان سامنے آ گیا ہے۔ جہازوں پر حملہ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایرانی سفیر محمد فتحلی کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گیا، جہاں خارجہ سکریٹری کے ساتھ میٹنگ کی گئی۔ اس دوران خارجہ سکریٹری نے بتایا کہ ایرانی سفیر کے سامنے 2 ہندوستانی پرچم والے جہازوں پر ہوئی فائرنگ کے واقعہ پر شدید فکر کا اظہار کیا گیا اور احتجاج بھی درج کرایا گیا۔Our statement regarding Iran ⬇️ https://t.co/05hycXPgJ6 pic.twitter.com/HwhqdNL9M8— Randhir Jaiswal (@MEAIndia) April 18, 2026میڈیا رپورٹس کے مطابق ہندوستان کی جانب سے ایرانی سفیر محمد فتحلی کو یاد دلایا گیا کہ ایران ہندوستان مرچنٹ شپنگ اور کشتی رانوں کی سیکورٹی کو کتنی اہمیت دیتا ہے۔ اس سے قبل ایران نے ہندوستانی جانے والے کئی جہازوں کو محفوظ راستہ دیا تھا، لیکن وزارت خارجہ نے کہا کہ اس بار جو حادثہ پیش آیا ہے وہ فکر پیدا کرنے والا ہے۔ انھوں نے ایرانی سفیر سے ہندوستان کے نظریات کو ایرانی افسران تک پہنچانے کی گزارش کی۔ ساتھ ہی جلد از جلد ہندوستانی جہازوں کے لیے راستے کی سہولت پھر سے شروع کرنے کو کہا۔ اس معاملہ میں ایرانی سفیر نے ان باتوں کو ایرانی افسران تک پہنچانے کا یقین دلایا ہے۔ ہندوستان اس معاملہ پر باریکی سے نظر بنائے ہوئے ہے۔اس سے قبل ہفتہ کے روز آبنائے ہرمز سے گزر رہے 2 تجارتی جہازوں پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ یہ فائرنگ ایرانی بحریہ کی جانب سے ہوئی، جس میں 2 ہندوستانی جہازوں پر گولی چلائی گئی تھی۔ پہلے خبر آئی تھی کہ 2 جہازوں میں سے ایک جہاز ہندوستان سے تعلق رکھتا ہے، لیکن بعد میں دونوں جہاز ہندوستان ہونے کی اطلاع سامنے آئی۔ اس کے بعد ہندوستانی وزارت خارجہ میں ایرانی سفیر کو طلب کیا گیا۔ ساتھ ہی ہندوستانی ٹینکر پر حملے پر احتجاج ظاہر کرنے والا پیغام دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ ہندوستانی جہاز پر یہ حملہ عمان کے پاس ہوا ہے۔ حالانکہ ہندوستان کے سخت رخ کے بعد ایران کی طرف سے دوبارہ کسی بھی طرح کا حملہ نہیں ہوا ہے۔