تہران (21 اپریل 2026): ایران کے پارلیمانی اسپیکر باقر قالیباف نے مؤقف مزید سخت کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ وہ مذاکرات کو ’’سرنڈر کی میز بنانے یا نئی جنگی مہم جوئی کو جواز دینے‘‘ کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بھرپور فوجی طاقت سے حملہ کیا جا سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا اور ایران کے وفود ممکنہ دوسرے دور کے مذاکرات کے لیے پاکستان کا سفر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔سی این بی سی کے مطابق ایک غیر مستحکم جنگ بندی اپنی مدت کے اختتام کے قریب پہنچ رہی ہے، ایسے میں امریکا اور ایران کے درمیان لفظی جنگ میں شدت آ گئی ہے، اور دونوں فریق امن معاہدے کی دوسری کوشش سے پہلے اپنے مؤقف سخت کر رہے ہیں۔ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے منگل کے روز سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا اور امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو سرنڈر کی میز میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں، وہ اپنے تصورات میں مذاکرات کی ٹیبل کو سرنڈر ٹیبل بنا رہے ہیں، اور ٹرمپ ایسا کر کے دوبارہ جنگ کا جواز پیش کرنا چاہتے ہیں۔ایران پاکستان میں مذاکرات کرنے آ رہا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپغالیباف نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کے پاس اس کشیدگی میں نئی برتری موجود ہے۔ انھوں نے کہا ’’گزشتہ دو ہفتوں میں ہم نے میدانِ جنگ میں نئے پتے ظاہر کرنے کی تیاری کی ہے‘‘، تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی، اور کہا ’’ہم دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کرتے۔‘‘ترامپ با اعمال محاصره و نقض آتشبس میخواهد تا به خیال خود این میز مذاکره را به میز تسلیم تبدیل کند یا جنگافروزی مجدد را موجّه سازد. مذاکره زیر سایهٔ تهدید را نمیپذیریم و در دو هفتهٔ اخیر برای رو کردن کارتهای جدید در میدان نبرد آماده شدهایم.— محمدباقر قالیباف | MB Ghalibaf (@mb_ghalibaf) April 20, 2026 یہ سخت بیانات اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ نے دوبارہ دھمکی دی کہ اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر بھرپور فوجی طاقت سے حملہ کیا جائے گا، اور بہت سے بم گرنا شروع ہو جائیں گے۔ مزید امن مذاکرات کی صورت حال اور دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کی تفصیلات مزید غیر واضح ہوتی جا رہی ہیں، کیوں کہ ٹرمپ کبھی سخت جنگی بیانات دیتے ہیں اور کبھی ایران کے ساتھ مزید مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کرتے ہیں۔سابق امریکی سفیر برائے عمان مارک سیورز نے پیر کے روز سی این بی سی کے پروگرام ایکسس مڈل ایسٹ میں کہا ’’یہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے معاہدہ حاصل کرنے کا آخری موقع ہے۔ اور خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں اور پلوں پر دوبارہ فوجی کارروائی کی دھمکی پر عمل کیا تو صورت حال سنگین ہو سکتی ہے۔واضح رہے کہ پیر کے روز بلومبرگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ بندی ’’واشنگٹن وقت کے مطابق بدھ کی شام‘‘ ختم ہو جائے گی۔