واشنگٹن (21 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ رات امریکی ریڈیو کو انٹرویو میں کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے پاکستان آ رہا ہے، اگر وہ مذاکرات کی میز پر نہ آیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، ایران کے لیے ایسی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں جو ماضی میں کبھی نہیں ہوئیں۔ریڈیو انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے امید ظاہر کی ہے کہ مذاکرات کے ذریعے منصفانہ ڈیل ہو جائے گی اور ایرانی قیادت اپنے ملک کی بہتری کے لیے مثبت اقدامات کرے گی۔ انھوں نے واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، اگر ایران کو نیوکلیئر بم بنانے دیا گیا تو یہ دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔امریکی صدر نے کہا آبنائے ہرمز پر اس وقت امریکا کا کنٹرول ہے اور ناکہ بندی کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، امریکا کا مقصد جنگ کو ختم کرنا ہے تاکہ ہر کوئی خوش ہو۔انھوں نے کہا ایران میں ملٹری ایکشن کے علاوہ اور کوئی چوائس نہیں تھی، ہمارے پاس کوئی چوائس نہیں تھی اس لیے کارروائی کرنی پڑی، ہم نے اچھا کام کیا اور اس کو انجام تک پہنچائیں گے، جنگ کو ختم کریں گے، ہر کوئی خوش ہونے والا ہے، ایران سے ڈیل ہونے کے بعد اشیا اور انرجی کی قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔امریکا سے مذاکرات : ایرانی وفد آج منگل کی شام اسلام آباد پہنچے گا، ذرائعٹرمپ نے کہا ایران کو ایٹمی ہتھیار رکھنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی تھی، ایران مشرق وسطیٰ اور اسرائیل کو ناک آؤٹ کرنے کے بعد امریکا آ جاتا۔ امریکی صدر نے کہا ایران کے ساتھ معاملہ ختم ہونے کے قریب ہے، ویتنام، افغانستان اور عراق میں کئی سال تک جنگیں لڑی گئیں، ہم ایران جنگ 2 سے 3 ماہ میں نمٹا رہے ہیں، اگر ایران کو نیو کلیئر بم کی اجازت دی تو یہ دنیا کے لیے تباہی ہوگیدریں اثنا، سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ ڈیموکریٹس ایران معاملے پر ہماری مضبوط پوزیشن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، پہلی، دوسری جنگ عظیم، کوریا، ویتنام ، عراق جنگ سالوں جاری رہیں، میں نے ایران جنگ کے خاتمے کے لیے 6 ہفتے کی ٹائم لائن دی لیکن نتیجہ کہیں زیادہ جلد نکلا۔انھوں نے کہا امریکا ڈیل کے لیے جلد بازی میں گھاٹے کا سودا نہیں کرے گا، فیک نیوز میڈیا کہتا ہے میں ڈیل کے لیے دباؤ میں ہوں، یہ سچ نہیں ہے اور میں کسی قسم کے بھی دباؤ میں نہیں، اہم بات یہ ہے کہ 47 سال میں جو کوئی امریکی صدر نہ کر سکا وہ میں نے کر دکھایا، ہماری کامیابی کو کم تر کہنے والے ڈیموکریٹس اور غداروں کو کامیاب نہیں ہونے دوں گا۔