ایران نے افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی سے صاف انکار کر دیا

Wait 5 sec.

تہران (19 اپریل 2026): ایران نے افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی سے صاف انکار کر دیا ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا کہ افزودہ یورینیم کی منتقلی کا معاملہ زیر بحث ہی نہیں۔سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان متعدد پیغامات کا تبادلہ ہوا، امریکا کے مطالبات غیر ضروری اور حد سے زیادہ ہیں، ایران امریکا کو افزودہ یورینیم نہیں بھیجے گا۔انھوں نے مزید کہا امریکا کے ساتھ بات چیت اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دونوں فریق ایک مشترکہ فریم ورک پر متفق نہ ہو جائیں، مزید مذاکرات کی کوئی تاریخ اس وقت تک طے نہیں کی جائے گی جب تک ایک مشترکہ فریم ورک پر اتفاق نہ ہو جائے۔قبل ازیں، ایران نے جمعہ کے روز ہی کہہ دیا تھا کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو بیرونِ ملک نہیں بھیجے گا، اور اس طرح صدر ٹرمپ کے اس بیان کی تردید کی کہ تہران اس حوالے سے رضامند ہو گیا ہے۔بھارتی بحری جہازوں کے واقعے کے بعد پاسداران انقلاب نے انتباہ جاری کر دیاایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سرکاری میڈیا کے مطابق کہا کہ یہ مواد ’’کہیں بھی‘‘ منتقل نہیں کیا جائے گا، جس سے ایران کے اپنے جوہری اثاثوں پر کنٹرول برقرار رکھنے کے دیرینہ مؤقف کی توثیق ہوتی ہے۔بقائی نے کہا ’’جس طرح ایران کی سرزمین ہمارے لیے اہم اور مقدس ہے، اسی طرح افزودہ یورینیم بھی ہے‘‘ اور مزید کہا کہ اسے امریکا بھیجنا ’’کبھی بھی زیرِ غور آپشن نہیں تھا۔‘‘انھوں نے افزودگی کو مستقل طور پر روکنے سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک میڈیا مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد مذاکرات کاروں پر اثر انداز ہونا اور بات چیت کے رخ کو متاثر کرنا ہے۔