ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اہم ہنگامی اجلاس

Wait 5 sec.

واشنگٹن (19 اپریل 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اہم ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے پر غور کیا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ہفتے کی صبح ہونے والے اہم اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوسی وائلز، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین بھی اجلاس میں موجود تھے۔ایکسیوس کے مطابق ایران کے ساتھ صورت حال ایک نازک مرحلے پر ہے، جنگ بندی کے تین دن میں ختم ہونے کی توقع ہے، اور امریکا و ایران کے مذاکرات کاروں کے درمیان نئی ملاقات کی کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو امکان ہے کہ چند ہی دنوں میں جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔ایران نے افزودہ یورینیم کی امریکا منتقلی سے صاف انکار کر دیاایران کی جانب سے ہفتہ کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے اعلان اور اس آبی گزرگاہ میں کئی جہازوں پر حملوں کی خبریں، ٹرمپ کے اس بیان کے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت بعد سامنے آئیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ جنگ کے خاتمے کا معاہدہ ’’ایک یا دو دن میں‘‘ ہو سکتا ہے۔سی این این کے مطابق سینیئر انتظامیہ کے عہدیدار ہفتہ کے روز وائٹ ہاؤس میں آتے دیکھے گئے، کیوں کہ ایران کے ساتھ صورت حال ایک نازک موڑ کے قریب پہنچ رہی ہے۔ ٹرمپ ہفتے کے آخر میں واشنگٹن ہی میں موجود رہے اور انھوں نے اوول آفس میں ایک تقریب کی میزبانی کی جہاں انھوں نے سائیکیڈیلک علاج سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے، جب کہ ان کی قومی سلامتی ٹیم کے اہم ارکان وائٹ ہاؤس میں آتے جاتے رہے۔