بھارتی بحری جہازوں کے واقعے کے بعد پاسداران انقلاب نے انتباہ جاری کر دیا

Wait 5 sec.

تہران (19 اپریل 2026): آبنائے ہرمز میں بھارتی بحری جہازوں پر حملے کے واقعے کے بعد پاسداران انقلاب نے بحری جہازوں کے لیے انتباہ جاری کر دیا ہے۔ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ تمام بحری جہاز صرف ایرانی نیول کمانڈ کی ہدایات پر عمل کریں، ہرمز کی طرف کوئی جہاز بڑھا تو اسے دشمن سے تعاون کرنا سمجھا جائے گا۔ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز نہیں کھولے گا جب تک امریکا اس کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ آمنے سامنے مذاکرات کے نئے دور کے لیے کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی۔ انھوں نے واشنگٹن کی جانب سے اپنی ’’زیادہ سے زیادہ‘‘ مطالبات ترک نہ کرنے کی روش پر بھی تنقید کی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا، انھوں نے خبردار کیا کہ واشنگٹن تہران کی بلیک میلنگ میں نہیں آئے گا۔آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنیوالے بھارتی جہازوں پر حملہادھر متحدہ عرب امارات کے ایک وزیر نے آبنائے ہرمز کو ’’مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنے‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ یو اے ای کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی مذمت کی اور کہا کہ جنگ کے کسی بھی حل میں تہران کی ’’تمام تر خطرات‘‘ کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔متحدہ عرب امارات کی وزارتِ خارجہ کے وزیر مملکت سعید بن مبارک الہاجری نے اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش معاشی دہشت گردی ہے جسے عالمی برادری کو فوری طور پر حل کرنا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف جنگ میں جنگ بندی اپنے طور پر کافی نہیں ہے۔انھوں نے کہا ’’اس جنگ کا کوئی بھی پائیدار حل ایران کے تمام خطرات کو مدنظر رکھے: اس کی جوہری صلاحیتیں، اس کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون، اس سے وابستہ اتحادی گروہ، اور آبنائے ہرمز کو مکمل اور غیر مشروط طور پر دوبارہ کھولنا۔‘‘ الہاجری نے مزید کہا کہ کامیابی کا معیار صرف لڑائی میں وقفہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ ایک حتمی نتیجہ ہونا چاہیے، جس میں پابند ضمانتیں، جواب دہی، اور یہ یقین دہانی شامل ہو کہ جارحیت کا یہ سلسلہ دوبارہ کبھی نہیں دہرایا جائے گا۔