تہران(19 اپریل 2026): ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا دھمکیوں، انتباہ اور ڈیڈ لائن کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کے بعد اب اس نے ثالثوں کے ذریعے ایران کو پیغامات بھیجنا شروع کر دیے ہیں۔ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مختلف نکات پر اختلافات ہیں لیکن ساتھ ہی کچھ نکات طے پا چکے ہیں، ایران نے عارضی جنگ بندی صرف اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو ایرانی مطالبات ماننے پر مجبور کیا جا سکے۔انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہ تو ایران میں حکومت تبدیل کرنے کا اپنا مقصد پورا کر سکے اور نہ ہی ایران کی میزائل صلاحیت کو تباہ کرنے میں کامیاب رہے۔اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے باقر قالیباف نے کہا کہ ہم نے امریکی ‘مائن سویپرز’ (بارودی سرنگیں ہٹانے والے جہازوں) کی سرگرمیوں پر سخت اعتراض کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ امریکا انہیں فوری پیچھے ہٹائے، کیونکہ یہ کارروائیاں جنگ بندی کی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں ہے اور مذاکرات کے دوران وہاں امریکی نقل و حرکت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔باقر قالیباف کے مطابق، اسلام آباد مذاکرات میں امریکا کو دوٹوک تنبیہ کی گئی کہ اگر امریکی جہاز آگے بڑھے تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا، جس پر امریکی وفد نے جہاز پیچھے ہٹانے کے لیے 15 منٹ کا وقفہ مانگا اور پھر اپنے جہازوں کو پیچھے ہٹایا۔ایرانی اسپیکر نے مزید کہا کہ امریکا کی جانب سے ناکہ بندی کی کوششیں ایک احمقانہ اور غیر دانشمندانہ فیصلہ ہے جو اسے کسی صورت فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔