امریکی فوج نے ایرانی بحری جہازوں پر چڑھ کر انھیں ضبط کرنے کی تیاری کر لی، وال اسٹریٹ جرنل

Wait 5 sec.

واشنگٹن (19 اپریل 2026): امریکی فوج نے آنے والے دنوں میں ایران سے منسلک تیل بردار جہازوں پر چڑھ کر ان کا کنٹرول سنبھالنے اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو ضبط کرنے کی تیاری کر لی ہے۔وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج آنے والے دنوں میں ایران سے منسلک تیل بردار جہازوں پر سوار ہونے اور بین الاقوامی پانیوں میں تجارتی جہازوں کو ضبط کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی اپنی بحری کارروائیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔یہ منصوبہ بندی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ایرانی فوج آبنائے ہرمز پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر رہی ہے، اور ہفتے کے روز کئی تجارتی جہازوں پر حملے کرتے ہوئے اس آبی گزرگاہ کو ’’سخت کنٹرول‘‘ میں ہونے کا اعلان کیا۔ان پیش رفتوں کے باعث شپنگ کمپنیاں پریشانی میں مبتلا ہو گئی ہیں، یہ صورت حال ایران کے وزیر خارجہ کے اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز تجارتی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھلی ہے، اس اعلان کا صدر ٹرمپ نے بھی خیر مقدم کیا تھا۔ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں اہم ہنگامی اجلاسرپورٹ کے مطابق ایرانی بحری جہاز قبضہ کرنے کی کارروائیاں بین الاقوامی پانیوں میں ہوں گی، ممکنہ طور پر مشرقِ وسطیٰ سے باہر بھی۔ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے کہا ’’امریکا کسی بھی ایرانی پرچم بردار جہاز یا ایران کو مادی مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا فعال طور پر تعاقب کرے گا۔ اس میں وہ ’ڈارک فلیٹ‘ جہاز بھی شامل ہیں جو ایرانی تیل لے جا رہے ہیں۔‘‘انھوں نے مزید وضاحت کی کہ ڈارک فلیٹ سے مراد وہ غیر قانونی یا مشتبہ جہاز ہیں جو بین الاقوامی ضوابط، پابندیوں یا انشورنس کی شرائط سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کین کے مطابق یہ نئی مہم، جسے جزوی طور پر امریکی انڈو-پیسیفک کمانڈ چلائے گی، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ایران کے خلاف ایک وسیع تر مہم کا حصہ ہوگی جسے ’’اکنامک فیوری‘‘ کہا جا رہا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ کو ’’امید‘‘ ہے کہ یہ نئے اقدامات ایک امن معاہدے تک پہنچنے میں مدد دیں گے۔ رپورٹ میں سینٹکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا پہلے ہی 23 جہازوں کو ایرانی بندرگاہوں سے نکلنے سے روک چکا ہے، جب سے اس نے آبنائے پر ناکہ بندی شروع کی ہے۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے باہر بحری کارروائیوں کے پھیلاؤ سے امریکا کو ایران کے خلاف مزید دباؤ ڈالنے کا موقع ملے گا، کیوں کہ وہ ایران جانے والے تیل یا ہتھیاروں سے لدے مزید جہازوں پر کنٹرول حاصل کر سکے گا۔ادھر ایران نے ہفتے کے روز دعویٰ کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز پر دوبارہ فوجی کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور وہ اسے اس وقت تک برقرار رکھے گا جب تک امریکا ایران آنے جانے والے جہازوں کی مکمل آزادی کی ضمانت نہیں دیتا۔